وفاقی بجٹ اور صوبائی حقوق کے معاملے پر خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس، سیاسی و قانونی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ
پشاور: خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے ہنگامی اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے مالی اور ترقیاتی حقوق سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد وفاق کے خلاف بھرپور سیاسی اور قانونی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے ۔سپارک
اجلاس میں شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبے کے آئینی حقوق اور مالی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آئینی اور قانونی ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے بجٹ سے متعلق آئینی اور قانونی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین قانون پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جو موجودہ صورتحال کا تفصیلی تجزیہ کرے گی اور پارلیمانی پارٹی کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کے مطابق اگر بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات ممکن نہ ہو سکی تو ماہرین پر مشتمل یہ خصوصی ٹیم صوبائی بجٹ کے حوالے سے تمام ممکنہ آئینی اور قانونی آپشنز کا جائزہ لے گی۔ ٹیم نہ صرف ممکنہ سیاسی و قانونی صورتحال کا تجزیہ کرے گی بلکہ خیبرپختونخوا کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک جامع قانونی لائحہ عمل بھی مرتب کرے گی، تاکہ صوبے کے مفادات کا ہر سطح پر دفاع کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران شرکاء نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے ترقیاتی فنڈز میں وفاق کی جانب سے کسی بھی ممکنہ کٹوتی سے متعلق فیصلہ بانی پاکستان تحریک انصاف سے مشاورت کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا۔ پارلیمانی پارٹی کے مطابق صوبے کے مالی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور اس حوالے سے ہر فیصلہ پارٹی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ مالی سال 2026-27 صوبے میں ترقی، امن اور عوامی خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر رکاوٹوں اور چیلنجز کے باوجود صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بجٹ سازی کے عمل میں عوامی مفادات اور ترقیاتی ضروریات کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات کے پیش نظر مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو سرپلس بجٹ نہیں رکھا جائے گا، بلکہ دستیاب وسائل کو عوامی خدمات، ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی مجموعی معاشی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر پارلیمانی پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی، پارلیمانی اور قانونی سطح پر ہر ممکن اقدام کیا جائے گا اور صوبے کے عوام کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔