Gas Leakage Web ad 1

پاکستان میں البینزم کے شکار افراد تعلیم، صحت اور روزگار میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں: اقوامِ متحدہ

0

اقوام متحدہ کی آزاد ماہر مولُوکا این مِٹی ڈرمنڈ نے 2 سے 12 جون 2026 تک پاکستان کا دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے اسلام آباد، کراچی، دادو، لاہور اور ساہیوال سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور البینزم کے شکار افراد، حکومتی حکام، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔

Gas Leakage Web ad 2

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں البینزم کے شکار افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی مستند سرکاری ڈیٹا موجود نہیں، تاہم اندازاً 30 ہزار افراد اس کیفیت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ماہر نے خبردار کیا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بہت سے افراد کو معذوری سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ متعدد افراد اس سہولت اور اس سے وابستہ فوائد سے بھی آگاہ نہیں۔ ماہر نے معذوری کے نظام کو مزید مؤثر اور یکساں بنانے کی سفارش کی۔

صحت کے شعبے میں رپورٹ نے نشاندہی کی کہ البینزم کے شکار افراد جلدی سرطان، بینائی کی کمزوری اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں، لیکن سن اسکرین، معاون طبی آلات اور خصوصی علاج تک ان کی رسائی محدود ہے۔ ماہر نے سن اسکرین کو ضروری ادویات کی فہرست میں شامل کرنے اور مفت فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

تعلیم کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ اکثر طلبہ کو بصری کمزوری کے باوجود مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح روزگار کے شعبے میں امتیازی رویے، محدود مواقع اور معذوری کوٹہ کے مؤثر نفاذ کی کمی بھی نمایاں مسائل قرار دیے گئے۔

ماہر نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی اور بلند الٹرا وائلٹ شعاعوں کے باعث البینزم کے شکار افراد خصوصی طور پر متاثر ہو رہے ہیں، لیکن موسمیاتی پالیسیوں میں ان کی ضروریات کو خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔

اقوام متحدہ کی ماہر اپنی حتمی اور تفصیلی رپورٹ مارچ 2027 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.