انمول پنکی کے خلاف کیس میں پولیس کی ایک اور مبینہ غفلت بھی سامنے آگئی، مدعی مقدمہ نے بتایا کہ پولیس مقدمہ درج کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
سٹی کورٹ میں انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران مدعی مقدمہ نے دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان قلمبند کرا دیا، جبکہ کیس میں پولیس کی ایک اور مبینہ غفلت بھی سامنے آ گئی۔
مدعی مقدمہ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس مقدمہ درج کرنے کے لیے تیار نہیں تھی اور ایف آئی آر کے اندراج میں تقریباً ایک ماہ کی تاخیر کی گئی، جس سے عدالتی کارروائی متاثر ہوئی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بطور پاکستانی شہری مقدمہ درج کرانا اپنا فرض سمجھتا تھا۔بیان کے مطابق مدعی کسی کام کے سلسلے میں شیر شاہ گیا تھا جہاں اسے ایک شخص کی لاش پڑی ہوئی نظر آئی، اس موقع پر ایمبولینس اور ون فائیو پولیس پہلے ہی موقع پر موجود تھیں۔ بعد ازاں لاش کو بغدادی تھانے منتقل کیا گیا۔
مدعی نے عدالت کو بتایا کہ مقتول کے ٹراؤزر کی جیب سے ایک ڈبیہ برآمد ہوئی جس پر ’’انمول عرف میڈم پنکی ڈان نام ہی کافی ہے‘‘ درج تھا۔
عدالت نے مدعی مقدمہ کا بیان ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے سماعت کی کارروائی آگے بڑھا دی۔
واضح رہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش اور شواہد کی جانچ کے بعد ہی الزامات کی حقیقت کا تعین کیا جائے گا۔