غذر میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ نسلوں پر محیط تعلق ہے اور غذر کے عوام اور پیپلز پارٹی کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بار کوئی ان سے نشست نہیں چھین سکے گا اور غذر کی تینوں نشستیں پیپلز پارٹی جیتے گی۔
بلاول بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ انہیں گلگت بلتستان میں بھاری اکثریت دلوائی جائے تاکہ وہ حقِ ملکیت، حقِ حاکمیت اور دیگر آئینی حقوق کے حصول کو یقینی بنا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ Asif Ali Zardari نے گلگت بلتستان کو شناخت دی، جبکہ اب نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقوق کے حصول کی جدوجہد کو آگے بڑھائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر حقِ ملکیت سے متعلق قانون سازی کرے گی، آئینی تحفظ کو یقینی بنائے گی اور گلگت بلتستان کے مطالبات کو وفاقی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھائے گی۔ ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ نہ ملا تو دیگر جماعتیں ان کی مجوزہ قانون سازی کو روک سکتی ہیں۔
بلاول بھٹو نے روزگار، رہائش اور سماجی بہبود کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی طرز پر گلگت بلتستان میں بھی رہائشی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جس نے عوام کو روزگار فراہم کیا، جبکہ دیگر جماعتوں نے لوگوں کو بے روزگار کیا۔
انہوں نے Benazir Income Support Programme کو پارٹی کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں گلگت بلتستان کے لیے اس پروگرام کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کی مدد کی جا سکے۔
صحت کے شعبے سے متعلق انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے بعد گلگت بلتستان میں جدید اسپتال قائم کیے جائیں گے اور عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ علاج کے لیے دور دراز شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پن بجلی کے وسیع مواقع موجود ہیں اور سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت بجلی گھر قائم کرکے خطے کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان وفاقی مدد کے بغیر بھی اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ترقی کر سکتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عوام سے 7 جون کو پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان ’’تیر‘‘ پر مہر لگانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ووٹ گلگت بلتستان کے حقوق، ترقی اور روشن مستقبل کے لیے ہوگا۔