مچھلی کا تیل سب سے زیادہ استعمال ہونے والا غذائی سپلیمنٹ ہے۔
مچھلی کے تیل میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ فیٹی ایسڈز صحت کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
اب اس کے روزانہ استعمال کا ایک فائدہ سامنے آیا ہے۔
مچھلی کے تیل کے کیپسولز کا استعمال ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے دائمی مرض سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ساؤ پاؤلو ریسرچ فاؤنڈیشن کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ سپلیمنٹ انسولین کی مزاحمت کے خلاف کام کرتا ہے جس سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مچھلی کے تیل سے بلڈ گلوکوز اور انسولین کی مزاحمت میں کمی آتی ہے۔
ذیابیطس ایک پیچیدہ دائمی مرض ہے جس میں جسم مناسب مقدار میں انسولین نہیں بنا پاتا یا انسولین پر درست ردعمل نہیں دیتا۔
یہ مرض دنیا میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس وقت 52 کروڑ سے زائد افراد اس کا شکار ہیں، جن میں زیادہ تر ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہیں۔
ذیابیطس ٹائپ 2 سے امراض قلب، گردوں اور بینائی کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وزارتوں اور ڈویژنوں کیلئے ترقیاتی بجٹ 754 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ
اس تحقیق میں چوہوں پر تجربات کیے گئے تھے۔
ان چوہوں کو آٹھ ہفتوں تک مچھلی کے تیل کا استعمال ہفتے میں تین دن کرایا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ ان چوہوں میں انسولین کی مزاحمت کم ہوئی، بلڈ شوگر کنٹرول بہتر ہوا، سوزش میں کمی آئی جبکہ نقصان دہ کولیسٹرول اور خون میں چکنائی کی سطح بھی کم ہوئی۔
محققین نے بتایا کہ یہ نتائج ابھی انسانوں پر مکمل طور پر ثابت نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کا بنیادی مقصد یہ دیکھنا تھا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور یہ سپلیمنٹ کس حد تک ذیابیطس سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج ایک طبی جریدے میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل دسمبر 2024 میں کینیڈا کی مانٹریال یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ مچھلی کے تیل کے کیپسولز جسم میں سوزش کم کرنے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سمیت امراض قلب کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
اس تحقیق میں چالیس صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا اور انہیں بارہ ہفتوں تک مچھلی کے تیل کے کیپسولز دیے گئے۔
نتائج میں دیکھا گیا کہ انسولین کا عمل بہتر ہوا اور خون میں چکنائی کی صفائی میں مدد ملی۔