کراچی میں سڑکوں اور رہائشی علاقوں کی بڑھتی ہوئی کمرشلائزیشن پر شہری تنظیموں اور ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہر کے لیے خطرناک رجحان قرار دیا ہے۔
کراچی سٹیزن فورم کے زیرِ اہتمام کراچی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں شہری منصوبہ بندی، پارکنگ، پانی، سیوریج اور اوپن اسپیسز جیسے بنیادی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور صورتحال پر سخت تحفظات سامنے آئے۔
بنوں میں خفیہ اطلاع پر آپریشن، 8 دہشت گرد ہلاک، ایک اہلکار شہید
پریس کانفرنس میں بیرسٹر شہاب اوستو، کنوینر کے سی ایف نرگس رحمان، اربن پلانر محمد توحید اور زاہد فاروق، سماجی کارکن شہناز رمزی اور چیئرمین پائیلیپ سعد امان اللہ سمیت مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے شرکت کی۔
بیرسٹر شہاب اوستو نے کہا کہ کراچی میں ماسٹر پلان اور زوننگ قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے رہائشی علاقوں کو تیزی سے کمرشل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں روزانہ 50 کروڑ گیلن سے زائد غیر ٹریٹڈ سیوریج سمندر میں پھینکا جا رہا ہے جبکہ کئی دہائیوں سے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس فعال نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ کو بھی کراچی کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور جسٹس گلزار کے 2019 کے فیصلے پر عملدرآمد ضروری ہے۔
اربن پلانر محمد توحید نے کہا کہ ہر سڑک کی کمرشل سرگرمی برداشت کرنے کی ایک حد ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی شاہراہ کو کمرشل بنانے سے پہلے ٹریفک، پارکنگ اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لینا لازمی ہے۔ ان کے مطابق ماسٹر پلان اور ایس بی سی اے پالیسیوں میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث شہر غیر منظم انداز میں پھیل رہا ہے۔
کنوینر کراچی سٹیزن فورم نرگس رحمان نے کہا کہ کمرشلائزیشن کے اثرات ہر شہری کو بھگتنا پڑتے ہیں، جبکہ رہائشی علاقوں میں بلند عمارتیں تو بن رہی ہیں مگر پارکنگ اور بنیادی ڈھانچے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
ماہرین نے مطالبہ کیا کہ رہائشی علاقوں کے امن، تحفظ، بنیادی سہولیات اور ماحولیاتی معیار کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے۔