اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس سپریم کورٹ یحییٰ آفریدی کے خلاف تمام شکایات کو مسترد کردیا۔ پشاور، لاہور، کراچی اور وہاڑی کے دو وکلا اور تین شہریوں نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف بدسلوکی (مس کنڈکٹ) کے الزامات کے تحت پانچ شکایات دائر کی تھیں۔
دیامیر بھاشاڈیم پروجیکٹ: ہیلی کاپٹر خریداری کیلئے 485 ارب روپے کا منصوبہ ایکنک کو ارسال
گزشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کے 14 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کا خلاصہ میڈیا کو جاری کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف پہلی شکایت 2016 میں پشاور ہائیکورٹ کے ایک وکیل صبغت اللہ شاہ نے دائر کی تھی جس میں ان پر پشاور ہائیکورٹ کے جج کے طور پر ایڈیشنل سیشن ججوں کی تقرری کے عمل میں میرٹ کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا گیا، تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شکایت کو متفقہ طور پر خارج کر دیا۔
دوسری شکایت کراچی کے شہری امجد حسین درانی نے دائر کی جس میں چیف جسٹس پر سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کو بغیر سماعت کے ہی خارج کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، اسے بھی سپریم جوڈیشل کونسل نے متفقہ طور پر خارج کر دیا۔