Gas Leakage Web ad 1

سینیٹ نے مفت اور لازمی تعلیم کے ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی

0

سینیٹ کا اجلاس شیری رحمان کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں مفت اور لازمی تعلیم کا ترمیمی بل 2026 پیش کیا گیا۔

Gas Leakage Web ad 2

ترمیمی بل کے مطابق ایلیمنٹری سے ہائی اسکول تک تمام طلبہ کے لیے پروگرامنگ سیکھنا اب قانونی طور پر لازم ہوگا، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم ہر طالب علم کا بنیادی حق قرار دے دی گئی ہے۔

آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی سربراہی میں ڈیرہ بگٹی میں اہم جرگے کا انعقاد

بل کے مطابق رائٹ ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2012 میں ترمیم کرتے ہوئے کمپیوٹر تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور اسکولوں میں کوڈنگ اور کمپیوٹر سائنس کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

بل کا مقصد طلبہ کو عالمی جاب مارکیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے دور کے لیے تیار کرنا ہے، جس کے تحت اب صرف پڑھنا لکھنا کافی نہیں ہوگا بلکہ ہر طالب علم کو کمپیوٹر پروگرامنگ بھی سیکھنی ہوگی۔

سینیٹ سے منظور ہونے والا ترمیمی ایکٹ فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

پاکستان نرسنگ اینڈ مڈ وائفری بل منظور

سینیٹ کے اجلاس میں پاکستان نرسنگ اینڈ مڈ وائفری بل پیش کیا گیا جسے ووٹنگ کے بعد ایوان نے منظور کر لیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ایوان کو بتایا کہ اگر بل آج منظور نہ کیا گیا تو اس کی مدت ختم ہو جائے گی۔

دورانِ اجلاس سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اراکین کی رائے ہے کہ بل کو مزید غور کے لیے کمیٹی میں بھیجا جائے۔

بل کو کمیٹی کے سپرد کرنے اور فوری منظوری کے حوالے سے ایوان میں ووٹنگ کرائی گئی جس میں دونوں جانب 13، 13 ووٹ آئے۔

ووٹ برابر ہونے پر پریذائیڈنگ آفیسر شیری رحمان نے فیصلہ کن ووٹ بل کے حق میں دیا جس کے بعد ایوان نے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈ وائفری بل منظور کر لیا۔

12 قائمہ کمیٹیوں کو رپورٹس پیش کرنے کے لیے مزید 60 روز کی مہلت

سینیٹ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ سینیٹ کی کئی قائمہ کمیٹیاں مقررہ وقت کے اندر اپنی رپورٹس پیش کرنے میں ناکام رہیں جس کے بعد متعلقہ کمیٹیوں نے مزید مہلت کی درخواست کی۔

درخواست میں کابینہ، اوورسیز، استحقاق، بحری امور، صحت اور تخفیفِ غربت سمیت مختلف قائمہ کمیٹیوں نے رپورٹس جمع کرانے کے لیے مدت میں توسیع مانگی۔

ایوان نے 12 قائمہ کمیٹیوں کے لیے رپورٹس پیش کرنے کی مدت میں 60 روز کی توسیع سے متعلق تحاریک منظور کر لیں۔

ملک میں 59 لاکھ افراد بے روزگار

وزارت اوورسیز کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً 59 لاکھ پاکستانی بے روزگار ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان لیبر فورس سروے 2024-25 پر مبنی ہیں۔

ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔

وفاقی اردو یونیورسٹی تین سال سے مالی بحران کا شکار

سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کو درپیش مالی بحران کا معاملہ زیر بحث آیا۔

سینیٹر منصور احمد نے کہا کہ یونیورسٹی گزشتہ تین سالوں سے شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔

سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ وزارت تعلیم خود اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ یونیورسٹی مالی بحران سے دوچار ہے، اس لیے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ یونیورسٹی کے عملے کو تنخواہوں کی ادائیگی جاری ہے۔

موٹرویز سے 71 ارب روپے آمدن

سینیٹ کے اجلاس میں وزارت مواصلات کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا گیا جس میں بتایا گیا کہ جولائی 2024 سے مارچ 2026 کے دوران موٹرویز سے مجموعی طور پر 71 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوئی۔

وزارت کے مطابق اس مدت میں حاصل ہونے والی آمدن کا 85 فیصد حصہ ایم ٹیگ سسٹم کے ذریعے وصول کیا گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.