سپریم کورٹ کے جسٹس شکیل احمد نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مشترکہ جائیداد کا کوئی بھی شریک اپنے موروثی حصے سے زیادہ جائیداد منتقل نہیں کر سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوہر مشترکہ جائیداد میں صرف اپنے حصے کی حد تک حق مہر دے سکتا ہے، جبکہ پورے گھر کو حق مہر میں دینے کا دعویٰ دوسرے قانونی ورثا کے حقوق کو متاثر نہیں کر سکتا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ایوب خان گادھی کے ڈیرے پر حملے کی مذمت، رپورٹ طلب
عدالت نے نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں کو ہدایت کی ہے کہ حق مہر میں درج جائیداد کی ملکیت کی تصدیق لازمی کی جائے۔ مزید یہ کہ نکاح نامے میں جائیداد کی ملکیت سے متعلق ایک الگ خانہ شامل کیا جائے تاکہ غیر ضروری قانونی تنازعات سے بچا جا سکے۔
سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی نقل تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو بھیجتے ہوئے عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر سول درخواست بھی خارج کر دی ہے۔