لاہور میں پاکستان ریلوے نے پنجاب حکومت کے تعاون سے صوبے میں 9 مقامی روٹس پر نئی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان ریلوے اور پنجاب حکومت کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کر دیے گئے ہیں۔
امریکا کا اسلحہ اور ایٹمی مواد کی فراہمی روکنے کیلئے ایران جانیوالے بحری جہازوں کی تلاشی کا اعلان
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بتایا کہ اس ایم او یو کے تحت پنجاب حکومت کے اشتراک سے نہ صرف نئے ٹریکس بچھائے جائیں گے بلکہ موجودہ ٹریکس کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور سے راولپنڈی کے درمیان پہلی فاسٹ ٹرین چلائی جائے گی جو یہ فاصلہ تقریباً سوا دو گھنٹے میں طے کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فاسٹ ٹرین کے علاوہ 8 دیگر مقامی روٹس پر بھی جدید ٹرینیں چلائی جائیں گی، جبکہ پنجاب حکومت نئے روٹس کے لیے نئے انجن اور کوچز فراہم کرے گی۔
ان کے مطابق شاہدرہ سے نارووال، نارووال سے سیالکوٹ، اور رائیونڈ، قصور، پاکپتن سے لودھراں تک نئی ٹرین سروسز شروع کی جائیں گی، جبکہ شیخوپورہ، جڑانوالہ اور شورکوٹ کے روٹس پر بھی نئی ٹرینیں چلائی جائیں گی۔
اس کے علاوہ لالہ موسیٰ، ملکوال اور سرگودھا کے روٹس پر بھی ٹرین سروس فراہم کی جائے گی، جبکہ فیصل آباد سے چک جھمرہ کے راستے بھی ٹرین چلائی جائے گی۔ اس منصوبے میں کوٹ ادو سے ڈیرہ غازی خان کے راستے کشمور تک بین الصوبائی ٹرین بھی شامل ہے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے حادثات کی روک تھام کے لیے ایک خودکار نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جبکہ شاہدرہ سے رائیونڈ تک گرین پارکس قائم کیے جائیں گے اور پنجاب میں ریلوے ٹریک کے اطراف چار لاکھ سے زائد پودے بھی لگائے جائیں گے۔