چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور امریکا کو بدلے کے خطرناک چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی معیشت ایک وسیع سمندر کی مانند ہے جو ہر قسم کے خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین کسی بھی ملک کو چیلنج کرنے یا اس کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنی ترقی اور بہتری پر توجہ دیتا ہے۔
سیلاب بحالی پروگرام کے تحت 6 ارب 39 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں: سینئر وزیر پنجاب
چینی صدر نے کہا کہ بات چیت ہمیشہ محاذ آرائی سے بہتر ہوتی ہے، اور موجودہ وقت میں چین اور امریکا کے تعلقات مجموعی طور پر مستحکم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی ٹیموں کو مذاکرات کے نتائج پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے اور تعلقات کے استحکام کے لیے تجارت اور معیشت کو مرکزی حیثیت دینی چاہیے۔
شی جن پنگ نے مزید کہا کہ تجارتی تعلقات چین اور امریکا کی دوستی کی بنیاد ہیں، دونوں ممالک کو طویل المدتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کو فروغ دینا چاہیے اور بدلے کے رویے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی اقتصادی اور تجارتی ٹیموں کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جس میں مختلف مسائل کے حل پر اتفاق کیا گیا۔ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، ٹیلی کام فراڈ، مصنوعی ذہانت اور منی لانڈرنگ جیسے مسائل پر تعاون کے مثبت رجحانات سامنے آئے ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی اور چینی صدور نے توانائی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی بات چیت کا سلسلہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔