محکمہ پاسپورٹس کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسپورٹ میں چند نئے فیچرز شامل کیے جا رہے ہیں، تاہم اس کے بنیادی مندرجات میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ نئے پاسپورٹس میں والد کے ساتھ والدہ کا نام بھی درج کیا جائے گا، اور اس کا مقصد شہریوں کے کوائف کو مزید جامع اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے پاسپورٹس میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جائیں گے جبکہ ویزہ پیجز پر پاکستان کے مختلف صوبوں کی تاریخی عمارات کی تصاویر بھی پرنٹ کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، اسرائیل کے حوالے سے جو عبارت موجودہ پاسپورٹ میں درج ہے، وہ جوں کی توں برقرار رہے گی۔
دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ میں والدہ کا نام ظاہر کرنے سے ملک کے موجودہ بینکنگ نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس وقت والدہ کا نام بینک اکاؤنٹ کی سیکیورٹی کا ایک اہم اور خفیہ جزو سمجھا جاتا ہے، اور اگر یہ معلومات عام ہو گئیں تو ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال اور فراڈ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل بینکنگ اور سیکیورٹی نظام پر اس کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لینا چاہیے تاکہ شہریوں کی معلومات محفوظ رہیں اور مالیاتی نظام کو کسی نقصان کا سامنا نہ ہو۔