
خضدار میں سکول بس کو دہشتگردی کا نشانہ بناتے ہوئے ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگردوں کے حملے میں شہید طلباء و طالبات کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی گھناؤنی سازش کا حصہ تھا۔
ذرائع کے مطابق مزید دو طلبات، شیما ابراہیم اور مسکان، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئیں۔ حملے میں شہید ہونے والوں میں 7 طالبات اور 1 طالب علم شامل ہیں۔
حملے کے پہلے روز ہی:
- چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو
- ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر
- دسویں جماعت کی عیشا سلیم
شہید ہو گئی تھیں، جبکہ طالب علم حیدر، طالبہ ملائکہ اور سحر سلیم نے دورانِ علاج دم توڑ دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سفاکانہ حملے کی منصوبہ بندی دہشتگرد ریاست بھارت میں کی گئی تھی، جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے مذموم عزائم رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
"ان معصوم بچوں کے خون کا حساب فتنہ الہندوستان اور ان کے ہندوستانی آقاؤں سے لیا جائے گا۔”
قوم اس سانحے پر غمزدہ ہے اور مطالبہ کر رہی ہے کہ ان بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔



