کراچی: ایم کیو ایم رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صوبے بنانے کے موجودہ قانون میں بھی آئینی ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس سال سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2400 ارب روپے ملے ہیں، جن میں سے کراچی کا حصہ 800 ارب روپے بنتا تھا، مگر شہر کو 100 ارب روپے بھی نہیں مل سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ تمام رقم وزیراعلیٰ سندھ کو دے دی گئی ہے اور اب وہ وزیراعلیٰ سے ہی اس کا مطالبہ کریں۔
کھوجی کتوں کی مدد سےچوروں کو تلاش کرنیوالی 4 رکنی ٹیم خود اغوا ہوگئی
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پیپلز پارٹی نے بلدیاتی نظام کے حوالے سے بات نہ کی تو 18ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کا راستہ کھل جائے گا اور سندھ کے اندر ایک نیا صوبہ بھی وجود میں آ سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے زرعی ٹیکس کے خلاف تھی، لیکن جب آئی ایم ایف نے اسے لاگو کرنے پر زور دیا تو زرداری صاحب نے اس کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔
مصطفیٰ کمال کا مؤقف تھا کہ صوبے بنانے کے قانون میں آئینی ترمیم قطعاً ممکن ہے، اور نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ اس وقت سامنے آتا ہے جب ان کے حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے۔