ملک میں سوزش چشم کا وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کردی گئی ، جس میں کہا ہے کہ سوزش چشم کے مریض کی آنکھوں میں خارش، پیپ نکلتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں کو خبردار کیا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں سوزش چشم (Conjunctivitis) تیزی سے پھیلنے کا خطرہ ہے۔
اس سلسلے میں قومی ادارہ صحت کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ یہ مرض ایڈینو وائرس سے ہوتا ہے اور انتہائی جلدی ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہو سکتا ہے۔
ایڈوائزری میں کہنا ہے کہ سوزش چشم کے مریض کی آنکھوں میں خارش، چبھن اور پیپ خارج ہونے لگتی ہے جبکہ آنکھ کی سفیدی سرخی مائل یا گلابی ہو جاتی ہے
قومی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ اس مرض کی ابتدائی علامات تین سے پانچ دن میں ظاہر ہو سکتی ہیں، تاہم اس کی مکمل مدت تین ہفتے تک بڑھ سکتی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سوزش چشم زیادہ تر مریض کے استعمال کی اشیاء سے دوسروں تک منتقل ہوتی ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر نہایت ضروری ہیں۔
صوبائی محکمۂ صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں اور عوامی شعور بیدار کرنے کی مہم چلائیں۔
این آئی ایچ کے مطابق اس مرض کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے اور یہ عموماً ایک سے دو ہفتوں میں خود ہی ختم ہو جاتا ہے، مریض کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ آنکھوں پر ٹھنڈی یا گرم پٹیاں رکھیں اور آئی ڈراپس کا استعمال کریں، تاہم اینٹی بایوٹک ادویات سے اجتناب کریں۔
قومی ادارہ صحت نے مزید کہا کہ سرخ آنکھ، جلن اور سوزش کے شکار مریض کو مشتبہ کیس تصور کیا جائے اور دیرپا علامات کی صورت میں فوراً ماہر امراض چشم سے رجوع کیا جائے۔