یورپی یونین نے اسرائیل کے ای ون آبادکاری منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سے منصوبے کا ٹینڈر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے نے اسرائیل کے ای ون مغربی کنارے کے آبادکاری منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت منصوبے کا ٹینڈر واپس لے۔
توانائی شعبے کا خسارہ 5 ہزار 286 ارب روپے تک پہنچ گیا
یورپی یونین کے نمائندے نے اپنے بیان میں کہا کہ ای ون سمیت مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت مجوزہ تعمیرات مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے ساتھ مشرقی یروشلم کو بھی الگ تھلگ کردیں گی، جس سے دو ریاستی حل کے قابلِ عمل ہونے کے امکانات مزید متاثر ہوں گے۔
یورپی یونین نے اسرائیلی پراسیکیوٹرز کی جانب سے حالیہ دنوں میں آبادکاروں کے تشدد کے بعض واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔
یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ای ون منصوبے سمیت یہودی آبادکاری کی تمام توسیعی سرگرمیاں روکے اور آبادکاروں کے تشدد میں ملوث ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے عالمی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس میں ای ون آبادکاری منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے اور کینیڈا نے مشترکہ بیان میں تعمیراتی ٹینڈرز جاری کرنے کے فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
اس سے قبل برطانیہ نے بھی اسرائیل کی جانب سے نئے متنازع یہودی آبادکاری منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی ناظم امور کو طلب کرکے احتجاج کیا تھا۔