ایران نے امریکی پابندیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق سخت ردعمل کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی اقتصادی پابندیوں میں تعاون کرنے والے ممالک کو دشمن تصور کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی چیف سیکیورٹی کونسل کے رکن محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر خطے کا کوئی ملک امریکا کی اقتصادی جنگ میں تعاون کرتا ہے تو ایران ایسے ممالک کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا کو جوہری پھیلاؤ کی جانب دھکیل دیا ہے اور خطے کے مختلف ممالک میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت بھی حالت جنگ میں ہے اور ملک کو معاشی، فوجی اور سیکیورٹی محاذوں پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کی سخت پابندیوں کے باوجود ثابت قدم ہے اور ایک غیر مساوی جنگ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مسعود پزشکیان کے مطابق امریکا نے ایران کو وینزویلا جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین چاہتے تھے کہ ایران تباہ ہو جائے، تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران مضبوط اتحاد کے ذریعے ایسی طاقت بن کر ابھرا ہے جس نے دنیا کو حیران کیا ہے، جبکہ حکومت کو امید ہے کہ عوام کو درپیش مشکلات پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔