ریاض: سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق حوثیوں کے حملوں کے بعد سعودی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے متعدد ممالک سے رابطے کیے جا رہے ہیں، جبکہ مجوزہ اتحاد کی تشکیل کے سلسلے میں درجنوں ممالک سے مشاورت جاری ہے۔
امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے آگاہ دو ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اتحاد کی حتمی ساخت اور طریقہ کار ابھی طے نہیں پایا۔
دوسری جانب یمن کے وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی تنظیم انصار اللہ باب المندب میں گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
یمنی وزیر اطلاعات کے مطابق یہ ایک خطرناک پیش رفت ہے، کیونکہ حوثی باب المندب کو دہشت گرد سرگرمیوں کی مالی معاونت کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد تنظیم نے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکرز کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
اس کے بعد سعودی اتحادی افواج نے یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں اور ان سے منسلک دیگر عسکری اہداف پر کارروائیاں کیں۔