امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں نیا اور مستقل سفارت خانہ تعمیر کرنے کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے اسرائیل اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بدھ کے روز منعقدہ ایک تقریب کے دوران اسرائیل کے وزیر خارجہ Gideon Sa’ar اور اسرائیل میں امریکا کے سفیر Mike Huckabee نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل امریکی سفارت خانے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کے معاہدے کی دستاویزات پیش کیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ امریکا یروشلم کو یہودی عوام کا ازلی، مقامی اور ہمیشہ کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس شہر میں اپنا پرچم بلند کرے گا اور ایک نیا مستقل سفارتی کمپلیکس تعمیر کرے گا جو اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہوگا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈئین سار نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان "ناقابلِ شکست اتحاد” کی علامت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکا اور اسرائیل کے قریبی تعلقات اور باہمی تعاون کی مزید مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
فیفا ورلڈکپ: بیلجیئم نے سینیگال کو شکست دیکرپری کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
اعلامیے کے مطابق نیا امریکی سفارت خانہ جنوبی مقبوضہ بیت المقدس میں واقع ایلنبی کمپاؤنڈ میں تعمیر کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم Adalah نے اس منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت خانے کی تعمیر "ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف” ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سب سے زیادہ متنازع علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ فلسطینی قیادت مشرقی یروشلم کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتی ہے، جبکہ اسرائیل پورے شہر کو اپنا غیر منقسم دارالحکومت قرار دیتا ہے۔
یاد رہے کہ اپنے پہلے دورِ صدارت میں Donald Trump نے دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور فلسطینی قیادت نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔