محسن رضائی نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں ہوگی۔
ایرانی رہبر اعلیٰ کے سینیئر فوجی مشیر محسن رضائی نے سی این این کو انٹرویو میں کہا ایران امریکا مذاکرات صدر ٹرمپ کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں، امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہ کی تو جنگ بحرِ ہند، باب المندب، بحیرہ احمر اور بحیرہ روم تک پھیلا دیں گے۔
تہران میں خصوصی انٹرویو کے دوران سی این این کے فریڈ پلیٹگن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی سے گفتگو کی۔ سپریم لیڈر، جو اپنی تقرری کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، اپنے اردگرد چند قابلِ اعتماد معاونین کا ایک محدود حلقہ رکھتے ہیں۔ جنرل رضائی اسی قریبی حلقے کے رکن ہیں۔
انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے درمیان کسی بھی ممکنہ ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا۔ اور یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے منجمد شدہ 24 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہو۔محسن رضائی نے دھمکی دی کہ بحری ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو ہم دیگر امریکی اڈوں پر حملے کر کے جنگ کو نیا رُخ دے دیں گے، اور امریکا کو پہلے سے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔
جمعہ کے روز دیے گئے انٹرویو میں رضائی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا دوبارہ جنگ شروع کرتا ہے تو وہ ایک تاریک راستے میں داخل ہو جائے گا۔ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ٹرمپ کو یہ تعطل ختم کرنا ہوگا، گیند اب ٹرمپ کے کورٹ میں ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ عبوری معاہدہ طے پاتے ہی 12 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کیے جائیں، جب کہ مزید 12 ارب ڈالر بعد کے مرحلے میں دیے جائیں۔ جب کہ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اس مرحلے پر فنڈز کا اجرا ایران پر دباؤ ڈالنے کے ایک اہم ذریعے کو ختم کر دے گا۔ ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ کوئی بھی نیا معاہدہ 2015 کے جوہری معاہدے سے کہیں زیادہ مضبوط نظر آئے اور اس میں ایسی کوئی بات نہ ہو جسے ’’نقد رقم کے پلندے‘‘ ایران کے حوالے کرنے سے تعبیر کیا جا سکے۔ ٹرمپ ماضی میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے ایران کو مالی معاوضہ دینے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے یہ اصطلاح استعمال کر چکے ہیں۔
انٹرویو میں محسن رضائی نے جنگ کے بعد ایران کے مستقبل، آبنائے ہرمز کی حیثیت اور دوبارہ حملے کی صورت میں ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں ایرانی فیصلہ ساز حلقوں کی سوچ پر روشنی ڈالی۔ ان کے بیانات کو اہم سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ اب بھی ایران کے سیکیورٹی اداروں سے قریبی تعلق رکھتے ہیں اور موجودہ سپریم لیڈر کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، جو اپنے والد کی ہلاکت اور اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے عوامی منظر سے غائب ہیں۔
انھوں نے کہا ’’اگر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ 24 ارب ڈالر اعتماد کا امتحان ہے جو ایران ٹرمپ سے لینا چاہتا ہے۔ امریکا کو یہ امتحان پاس کرنا ہوگا، تب راستہ کھلے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’یہ ہمارا اپنا پیسہ ہے، امریکا کا پیسہ نہیں۔‘‘
محسن رضائی نے سپریم لیڈر کی صحت اور ملکی فیصلوں میں ان کے کردار سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا، لیکن ٹرمپ اور خامنہ ای کی ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا ’’ایسا نہیں ہوگا۔ اس وقت ہم مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور مسٹر ٹرمپ نے مذاکرات کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔ یہ ملاقات نہیں ہوگی۔‘‘
اس ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے اور خامنہ ای کے تعلقات ’’کافی اچھے‘‘ لگتے ہیں اور وہ ان سے ملاقات کرنا اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھیں گے۔