ایران کی جانب سے ایک امریکی پائلٹ کی تلاش کے لیے بھاری انعام کا اعلان کیے جانے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ متعلقہ علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص امریکی پائلٹ کو تلاش کرکے اس کی گرفتاری میں مدد دے گا اسے 10 ارب تومان، یعنی تقریباً 60 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد علاقے کا رخ کر رہی ہے جس کے باعث سڑکوں پر شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آ رہا ہے۔
جوہری پلانٹ سے تابکاری کا اخراج ایران اور خلیجی ممالک میں زندگی کا خاتمہ کردیگا: عباس عراقچی
روسی میڈیا نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے مار گرائے گئے ایف 15 طیارے کے پائلٹ کو پکڑنے کے لیے ایرانی شہری بڑی تعداد میں اس مقام کی طرف جا رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے ابتدائی طور پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ گرائے گئے طیارے کے پائلٹ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، تاہم ایران کے اس صوبے کے گورنر، جہاں یہ طیارہ گرایا گیا، نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے دشمن کی چال قرار دیا ہے۔
گورنر کے مطابق اگر واقعی پائلٹ کو ریسکیو کیا گیا ہوتا تو کم از کم ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو وہاں لینڈ کرنا پڑتا، لیکن جیسے ہی طیارہ گرایا گیا اور ہیلی کاپٹرز علاقے میں آئے تو مقامی شہریوں نے ان پر فائرنگ کر کے انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں کوئی ہیلی کاپٹر لینڈ ہی نہیں کر سکا، اس لیے پائلٹ کا ریسکیو ممکن نہیں تھا۔