Gas Leakage Web ad 1

عید قرباں: یومیہ کتنا گوشت کھایا جانا چاہیے؟

0

عید قرباں کے موقع پر تقریباً پاکستان کے ہر گھر میں تازہ گوشت وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے اور ایسے موقع پر ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ تازہ اور صحت بخش گوشت کو اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائے۔

Gas Leakage Web ad 2

گوشت ایک ایسی غذا ہے جو انسانی صحت کے حوالے سے کئی طرح سے فائدہ مند ہوتا ہے اور اس کے انسانی صحت پر کئی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم اس کی وافر مقدار صحت کے مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔

عید قربان میں گوشت کی حفاظت کیسے: ماہرین نے فریزر کے متبادل بتا دئیے

گوشت میں آئرن، پروٹین، وٹامن بی 12، زنک اور اومیگا تھری جیسے اجزا ہوتے ہیں جو انسانی صحت و تندرستی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم بعض ماہرین اور طبی تحقیقات کے مطابق گوشت میں موجود یہ اجزا اس وقت نقصان دہ بن جاتے ہیں جب گوشت کا استعمال حد سے زیادہ کیا جائے۔

برطانوی وزارت صحت نے اپنے شہریوں کو یومیہ 70 سے 90 گرام گوشت کھانے کی تجویز دی ہے، یعنی کوئی بھی شخص یومیہ آدھا پاؤ سے بھی کم گوشت کھا سکتا ہے۔

برطانوی وزارت صحت کے مطابق برطانیہ میں زیادہ گوشت کھانے والے افراد میں آنتوں کے کینسر سمیت دل کے امراض، موٹاپا اور کولیسٹرول میں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم یہ بیماریاں مسلسل اور حد سے زیادہ گوشت کے استعمال سے پیدا ہوتی ہیں۔

ساتھ ہی برطانوی وزارت صحت نے وضاحت کی ہے کہ بعض اقسام کے گوشت کی زیادہ مقدار بھی کھائی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں برطانوی ماہرین کے مطابق گوشت کو پکانے کے طریقے بھی بیماریوں میں اضافہ کرتے ہیں، اس لیے گوشت کو زیادہ مصالحوں اور تیز آگ پر دیر تک پکانے سے گریز کرنا چاہیے۔

اسی طرح امریکا کے ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ایک تحقیقاتی مضمون میں بتایا گیا ہے کہ متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حد سے زیادہ اور مسلسل سرخ گوشت استعمال کرنے والے افراد میں کینسر اور دل کے امراض سمیت دیگر بیماریاں زیادہ دیکھی گئی ہیں۔

مضمون میں تجویز دی گئی ہے کہ لوگ یومیہ 50 سے 100 گرام یعنی زیادہ سے زیادہ آدھا پاؤ گوشت استعمال کریں۔

امریکی ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرخ گوشت کو اعتدال کے ساتھ خوراک کا حصہ بنایا جائے، تاہم مقدار کا خاص خیال رکھا جائے۔

امریکی اور برطانوی ماہرین نے اپنی تحقیقات میں یومیہ سرخ گوشت استعمال کرنے والے افراد کو بنیاد بنایا ہے اور ایسے افراد پر تحقیق نہیں کی گئی جو سال میں کچھ دن زیادہ مقدار میں گوشت کھاتے ہیں اور پھر باقی سال کم یا نہ ہونے کے برابر گوشت استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے عالمی ادارہ صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ پراسیس شدہ سرخ گوشت کا زیادہ اور مسلسل استعمال کینسر کے خطرات کو بڑھاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر لوگ روزانہ گوشت کی مقدار میں 50 گرام کی کمی بھی کر دیں تو کینسر کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔

پراسیس شدہ گوشت سے مراد وہ گوشت ہے جسے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے اس میں کیمیکل والے مصالحے شامل کیے جائیں یا اسے زیادہ نمک اور مصالحوں کے ساتھ پروسیس کیا جائے۔

ہیلتھی فوڈ نامی میگزین کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی ماہرین غذا نے ہفتے میں 700 گرام تک سرخ گوشت استعمال کرنے کی تجویز دی ہے۔

مضمون میں بتایا گیا کہ سرخ گوشت میں آئرن اور زنک جیسے اہم اجزا موجود ہوتے ہیں، اس لیے اسے خوراک کا حصہ بنانے کی سفارش کی جاتی ہے، تاہم حد سے زیادہ استعمال سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہر دوسرے دن 130 سے 200 گرام تک سرخ گوشت استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ عام طور پر مرد خواتین کے مقابلے میں زیادہ سرخ گوشت کھاتے ہیں، جس کے باعث ان میں آئرن اور زنک کی کمی کے مسائل کم ہوتے ہیں، جبکہ خواتین میں اس کی کمی سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

تاہم عالمی ادارہ صحت نے یومیہ گوشت کھانے کی کوئی واضح حد مقرر نہیں کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سرخ گوشت مفید ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں اور کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ہر شخص اپنی صحت اور خوراک کے مطابق گوشت کی مناسب مقدار کا استعمال کرے اور حد سے زیادہ کھانے سے گریز کرے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق خوراک کی ضروریات ہر فرد میں مختلف ہوتی ہیں، اس لیے گوشت کی مقدار کا تعین بھی اسی حساب سے ہونا چاہیے۔

البتہ ادارے نے واضح کیا ہے کہ حد سے زیادہ گوشت کھانے سے پرہیز ضروری ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ان ہدایات کی روشنی میں دیکھا جائے تو قربانی کے گوشت کے دوران لوگ کچھ دنوں تک نسبتاً زیادہ گوشت کھاتے ہیں، جبکہ بعد میں اس کی مقدار معمول پر آ جاتی ہے۔

بعض افراد کے مطابق قربانی کے گوشت کے دوران زیادہ مقدار کھانے کے باوجود سال بھر گوشت کا استعمال کم رہتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح طبی تحقیق موجود نہیں ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.