پھیپھڑوں کا کینسر دنیا میں سرطان کی سب سے زیادہ عام اقسام میں شمار ہوتا ہے اور عموماً اس کا خطرہ تمباکو نوشی کے عادی افراد میں زیادہ ہوتا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں ایسے افراد میں بھی پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو زندگی بھر تمباکو نوشی سے دور رہے ہیں۔
مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب 10 لاکھ مویشی برآمد کرے گا
امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں اس رجحان کی وجوہات جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق کے نتائج روایتی تصورات سے مختلف سامنے آئے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صحت کے لیے مفید سمجھی جانے والی غذائیں جیسے پھل، سبزیاں اور سالم اناج کے زیادہ استعمال سے بعض نوجوان یا تمباکو نوشی سے دور رہنے والے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
مطالعے کے مطابق حالیہ برسوں میں کم عمر افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ متاثرہ افراد اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی نہ کرنے کے باوجود وہ اس بیماری کا شکار کیوں ہوئے۔
اس تحقیق میں 50 سال یا اس سے کم عمر 187 افراد کا جائزہ لیا گیا۔
عام طور پر پھیپھڑوں کے کینسر کے زیادہ کیسز 71 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں سامنے آتے ہیں، خاص طور پر مردوں اور تمباکو نوشی کے عادی افراد میں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ 1980 کی دہائی سے امریکا میں تمباکو نوشی کی شرح میں کمی کے باوجود 50 سال یا اس سے کم عمر غیر تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں پھیپھڑوں کے کینسر کے تقریباً 10 فیصد کیسز 55 سال سے کم عمر افراد میں رپورٹ ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو افراد پھلوں، سبزیوں اور سالم اناج پر مبنی صحت مند غذا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کے امکانات مختلف ہو سکتے ہیں۔
محققین نے 50 سال سے کم عمر ایسے افراد پر سروے کیا جن میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی، اور ان سے بیماری، غذائی عادات اور تمباکو نوشی کی تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔
نتائج میں یہ بھی دیکھا گیا کہ زیادہ تر مریضوں نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی تھی، اور ان میں کینسر کی ایسی اقسام زیادہ پائی گئیں جو عام طور پر تمباکو نوشی کرنے والوں میں کم دیکھی جاتی ہیں۔
محققین کے مطابق نوجوان افراد میں اس بیماری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک ممکنہ وجہ جینیاتی تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی نتائج اتنے غیر متوقع تھے کہ انہیں شروع میں وضاحت کرنا مشکل تھا۔
تحقیق میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ ماحولیاتی عوامل، جیسے خوراک میں کیڑے مار ادویات کا زیادہ استعمال، اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایک اور اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ صحت مند غذا استعمال کرنے والی خواتین اور غیر تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں بھی بعض صورتوں میں خطرہ نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
اس سے قبل فروری 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ تمباکو نوشی سے دور رہنے والے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر میں اضافہ فضائی آلودگی سے منسلک ہو سکتا ہے۔
انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے مطابق 2022 میں فضائی آلودگی کے باعث تمباکو نوشی نہ کرنے والے تقریباً 2 لاکھ افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک قسم کی تشخیص ہوئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی خاص طور پر مشرقی ایشیا میں پھیپھڑوں کے کینسر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ان کے مطابق اس بیماری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سمجھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔