اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ دہشت گردی (UNOCT) کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں دہشت گردی کے نئے اور ابھرتے رجحانات کے موضوع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری آج سے یکم مئی تک چین کا دورہ کریں گے
یہ تقریب مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے سفارت کاروں، اقوامِ متحدہ کے پالیسی ماہرین، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں سے وابستہ انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین کو خیالات کے تبادلے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے منعقد کی گئی۔ اس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد اور UNOCT کے قائم مقام انڈر سیکریٹری جنرل الیگزینڈر زویوف نے کی، جبکہ افتتاحی کلمات دونوں شریک صدور نے ادا کیے۔ نظامت کے فرائض مسٹر رافع شاہ، چیف پالیسی، نالج مینجمنٹ اینڈ کوآرڈینیشن برانچ، UNOCT نے انجام دیے۔
پینل مباحثوں میں دہشت گردی کے عالمی ہاٹ اسپاٹس، زیرِ قبضہ علاقوں میں رہنے والی کمیونٹیز کے خلاف دہشت گردی، افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں جیسے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ، ای ٹی آئی ایم، داعش خراسان (ISIL-K) اور مغربی افریقہ و ساحل میں فعال گروہوں جیسے جے این آئی ایم کے خطرات پر غور کیا گیا۔ اس کے ساتھ آن لائن نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردی کے پروپیگنڈے اور مالی معاونت کے لیے جدید ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی اجاگر کیا گیا۔
پینل میں عوامی جمہوریہ چین کے مستقل مندوب سفیر فو کونگ، اقوامِ متحدہ کے اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کے کوآرڈینیٹر کولن اسمتھ، پروفیسر فیونوالا نی آولین (KC)، ڈاکٹر اولاجوموکے آیانڈیلی، کرسٹینا ہوسزتی-اوربان، مائیکل کوگیل مین، نورین فنک اور مس میکنزی رائس سمیت متعدد عالمی ماہرین نے شرکت کی۔
اپنے افتتاحی خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے تیزی سے بدلتے ہوئے خطرات کے منظرنامے، زینوفوبیا، نسل پرستی، مذہب یا عقیدے کے نام پر انتہا پسندی، عالمی انسدادِ دہشت گردی کے ڈھانچے میں موجود خلا، قومی دائرہ کار سے باہر خطرات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز و ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جوابدہی کے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے جدید ذرائع کے استعمال میں اضافے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا۔
قائم مقام انڈر سیکریٹری جنرل زویوف نے کہا کہ دہشت گردی اب ایک کثیرالجہتی اور پیچیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سمیت نئے ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، جو ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
پینل مباحثوں میں جدید اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجیز (ICTs) کے غلط استعمال، سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا، مصنوعی ذہانت کے ٹولز، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کے استعمال جیسے پہلوؤں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سائبر اسپیس کی سرحدوں سے آزاد نوعیت اور دائرہ اختیار کی پیچیدگیوں کے باعث حکومتوں کو مؤثر اقدامات میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔
مقررین نے دہشت گردی اور عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کے تدارک اور بروقت احتیاطی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دائیں بازو کے انتہا پسند نظریات، نفرت انگیز تقاریر اور آن لائن پروپیگنڈے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر نقصان دہ مواد کے مؤثر خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ تقریب پاکستان کے اس عزم کا حصہ ہے جس کے تحت وہ کثیرالجہتی فورمز پر مکالمے کو فروغ دے رہا ہے اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر جامع حکمتِ عملی کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب رکن (2025-26) کے طور پر انسدادِ دہشت گردی پاکستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ تقریب ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی (GCTS) کے نویں جائزے پر مذاکرات کر رہی ہے۔



