غیر قانونی سگریٹ برانڈز کے خلاف کریک ڈاؤن تیز ہوگا، ٹریک اینڈ ٹریس نظام ناگزیر ہے، بلال اظہر کیانی
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے تمباکو کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے نفاذ سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت غیر قانونی سگریٹ برانڈز کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرے گی اور تمباکو کی ری ٹیل مارکیٹ میں سخت مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ کی جائے گی، اس موقع پر انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر اپنی رپورٹ بھی جاری کی جس کے مطابق پاکستان میں اسمگل شدہ سگریٹ برانڈز کی تعداد میں چونتیس کا اضافہ ہو کر تین سو بیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ قوانین پر عمل نہ کرنے والے برانڈز میں اکسٹھ فیصد اضافے کے بعد ان کی تعداد چار سو پچپن ہو گئی ہے،
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ایک سگریٹ پیکٹ کی کم از کم قانونی قیمت ایک سو باسٹھ روپے ہے مگر تین سو بانوے غیر قانونی برانڈز اس قیمت سے کم پر فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر پچاس روپے فی پیکٹ سگریٹ فروخت ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے اور ایک سو پچانوے برانڈ ایک سو اکتیس سے ایک سو ساٹھ روپے فی پیکٹ کے درمیان سگریٹ فروخت کر رہے ہیں،
بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ قانونی برانڈز فروخت کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی تاہم نان کمپلائنٹ برانڈز کو قانون کے دائرے میں لایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ری ٹیل آؤٹ لیٹس صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور غیر قانونی سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے اختیارات دیے جا چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ایف بی آر سے متعلق اجلاسوں میں پیش رفت رپورٹس طلب کرتے ہیں اور اسمگل شدہ یا غیر قانونی مال بیچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی،
انہوں نے مزید بتایا کہ تمباکو سیکٹر کے ویئر ہاؤسز اور ٹرانسپورٹیشن کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے جس سے قوانین پر عمل درآمد اور ریونیو میں اضافہ ہوگا، وزیر مملکت کے مطابق وزیراعظم کیش لیس اکانومی کے فروغ کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور اسلام آباد و صوبوں میں ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کیو آر کوڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، ہر ری ٹیل آؤٹ لیٹ کے لیے کم از کم ایک ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم رکھنا لازم ہوگا اور تمام ری ٹیلرز و مرچنٹس کو ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ وفاق اور صوبوں میں اس مقصد کے لیے قانون سازی پر بھی کام جاری ہے جس کا بنیادی ہدف معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور کیو آر کوڈ کے ذریعے کیش لیس پاکستان پروگرام کو فروغ دینا ہے۔