Gas Leakage Web ad 1

چک دے پاکستان!!

موسی رضا آفندی

0

آج کا دن پاکستان کی تاریخ کے تین بڑے دنوں میں سے ایک ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

پہلا دن 28 مئی 1998 تھی جب چاغی میں دھماکہ ہوا اور پاکستان ایٹمی طاقت بنا۔ دوسرا دن مئی 2025 میں آیا جب بھارت کے خلاف پاکستانی فوج نے وہ دفاع کیا جس نے ثابت کیا کہ یہ ملک اپنی سرزمین کی حفاظت کر سکتا ہے۔ تیسرا دن آج ہے جب پاکستان نے لاکھوں ایرانیوں کو عفریت سے بچایا اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو دو ہفتے کی باعزت مہلت دلوائی۔

مگر یہ مضمون ایٹمی دھماکے کے بارے میں نہیں ہے۔ فوجی دفاع کے بارے میں نہیں ہے۔ جنگ بندی کے بارے میں بھی نہیں ہے۔ یہ مضمون ایک اور چیز کے بارے میں ہے جو ایٹمی بم سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور فوجی دفاع سے بھی زیادہ اہم۔

برانڈ پاکستان۔

میں چھ براعظموں پر واقع درجنوں ممالک میں جا چکا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستانی پاسپورٹ دکھانے پر کیا ہوتا ہے۔ میں نے وہ نظریں دیکھی ہیں جو ائرپورٹ پر پاکستانی پاسپورٹ دیکھ کر بدلتی ہیں۔ میں نے وہ اضافی سوالات سنے ہیں جو صرف پاکستانیوں سے پوچھے جاتے ہیں۔ میں نے وہ لمحات گزارے ہیں جب آپ کسی بین الاقوامی کانفرنس میں کھڑے ہوں اور سامنے والا آپ کا ملک سن کر بم دھماکوں کے بارے میں بات شروع کر دے۔

ڈیڑھ کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ہیں۔ دنیا کا چوتھا یا پانچواں بڑا تارکین وطن کا گروہ۔ لندن سے دبئی تک، نیویارک سے سڈنی تک، جدہ سے ٹورنٹو تک۔ یہ لوگ محنت کرتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، کاروبار چلاتے ہیں، ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اساتذہ ہیں، ٹیکنالوجی ماہر ہیں۔ مگر جب وہ اپنا ملک بتاتے ہیں تو سامنے والے کے ذہن میں پہلی تصویر کیا آتی ہے؟

بم دھماکہ۔ خودکش حملہ۔ اسامہ بن لادن۔ دہشت گردی کا برآمد کنندہ۔ ناکام ریاست۔

یہ وہ برانڈ ہے جو بیس تیس سالوں میں بنا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کا نام دہشت گردی کے ساتھ ایسے جڑ گیا جیسے کوئی مستقل داغ ہو۔ ہر بین الاقوامی خبر میں پاکستان کا ذکر آتا تھا تو ساتھ "ایٹمی ہتھیار”، "انتہا پسندی”، "طالبان” کے الفاظ ہوتے تھے۔ سی این این پر، بی بی سی پر، الجزیرہ پر، ہر جگہ ایک ہی تصویر۔ دھواں اٹھتی عمارتیں۔ بارود سے بھرے ٹرک۔ چیخیں اور سائرن۔

جو لوگ پاکستان کے اندر رہتے ہیں انھیں اس تکلیف کا اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ تکلیف صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو باہر رہتے ہیں۔ جب آپ لندن میں ٹیکسی ڈرائیور سے ملتے ہیں اور وہ پوچھتا ہے "کہاں سے ہو؟” اور آپ کہتے ہیں "پاکستان” اور اس کی آنکھوں میں وہ جھجک آتی ہے جو ہزار الفاظ سے بھاری ہے۔ جب آپ کا بچہ سکول میں پوچھتا ہے "ابو ہمارا ملک خراب کیوں ہے؟” اور آپ کے پاس جواب نہیں ہوتا۔ جب آپ کسی کاروباری ملاقات میں جاتے ہیں اور سامنے والا "رسک پروفائل” کی بات کرتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ کے ملک کی بات کر رہا ہے۔

برانڈنگ کیا ہوتی ہے؟ برانڈنگ وہ تصویر ہے جو آپ کا نام سنتے ہی ذہن میں بنتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ سنتے ہیں تو چاکلیٹ اور گھڑیاں یاد آتی ہیں۔ جاپان سنتے ہیں تو ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط۔ اٹلی سنتے ہیں تو فیشن اور کھانا۔ پاکستان سنتے ہیں تو کیا یاد آتا ہے؟

یہی وہ زخم ہے جو بیرون ملک بسنے والا ہر پاکستانی ہر روز برداشت کرتا ہے اور جس کا کوئی علاج کسی بجٹ میں نہیں ہوتا۔

اب دیکھیں کہ آج کیا ہوا ہے۔

آج پاکستان کا نام بم دھماکے کے ساتھ نہیں، امن کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے ساتھ نہیں، سفارتکاری کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ ناکامی کے ساتھ نہیں، قیادت کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ یورپی کونسل کی صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ سابق اطالوی وزیر اعظم نے پاکستان کے لیے نوبیل انعام کی بات چھیڑی ہے۔ رائٹرز نے نکسن کے چین دورے سے موازنہ کیا ہے۔ دنیا بھر کی زبانوں میں، عربی میں، فارسی میں، فرانسیسی میں، جرمن میں، ہندی میں، چینی میں، ہر جگہ آج ایک ہی بات ہو رہی ہے: پاکستان نے جنگ بندی کروائی۔

اس کی مالیت کا اندازہ لگائیں۔

برانڈنگ کی دنیا میں ایک اصول ہے: "earned media value”۔ جب کوئی خبر بغیر اشتہاری خرچے کے دنیا بھر میں پھیل جائے تو اس کی قیمت کا حساب لگایا جاتا ہے۔ آج پاکستان کا نام نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ٹیلی گراف، بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ، رائٹرز، اے پی سمیت سینکڑوں عالمی ذرائع ابلاغ میں مثبت تناظر میں آیا ہے۔ یہ اربوں ڈالر کی مالیت کا برانڈ ایکسپوژر ہے جو کوئی اشتہاری مہم نہیں خرید سکتی۔

کولمبیا کی مثال دیکھیں۔ وہاں بہت دفعہ گیا ہوں. بیس سال پہلے کولمبیا کا نام سنتے ہی منشیات اور پابلو ایسکوبار یاد آتا تھا۔ آج کولمبیا سیاحت کا مرکز ہے۔ تبدیلی میں دو دہائیاں لگیں اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کی مثال دیکھیں۔ پچاس سال پہلے صحرا تھا۔ برانڈنگ نے دبئی کو دنیا کا مرکز بنا دیا۔ رواندا کی مثال دیکھیں۔ نسل کشی کے بعد پال کاگامے نے "Visit Rwanda” مہم سے ملک کی تصویر بدلی اور آرسنل کی جرسی پر نام لکھوایا۔

مگر ان سب ممالک نے اربوں خرچ کیے۔ پاکستان کو یہ موقع مفت میں ملا ہے۔ جنگ بندی کی صورت میں۔ اور پاکستان نے اسے لپک لیا ہے۔

انگریزی میں ایک کہاوت ہے: "Give a dog a bad name and hang it”۔ کتے کو برا نام دے دو پھر پھانسی دے دو۔ بیس سال سے پاکستان کو برا نام دیا گیا۔ دہشت گرد۔ ناکام ریاست۔ خطرناک ملک۔ اور پھر اسی نام کی بنیاد پر ہر بین الاقوامی فورم پر نظرانداز کیا گیا۔ سلامتی کونسل میں آواز نہیں سنی گئی۔ تجارتی مذاکرات میں کونے میں بٹھایا گیا۔ ویزا دینے سے پہلے دس بار سوچا گیا۔

آج وہ نام بدل رہا ہے۔

آج سڈنی میں بیٹھا پاکستانی ڈاکٹر اپنے ساتھی کو بتا سکتا ہے کہ "یہ میرا ملک ہے جس نے جنگ روکی۔” آج دبئی میں بیٹھا پاکستانی تاجر اپنے کلائنٹ کو بتا سکتا ہے کہ "یہ میرا ملک ہے جس پر امریکہ اور ایران دونوں نے اعتماد کیا۔” آج ٹورنٹو میں پاکستانی نژاد بچہ اپنے سکول میں فخر سے کہہ سکتا ہے کہ "میرا ملک وہ ہے جس نے ایک تہذیب بچائی۔”

یہ احساس ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہے۔ ایٹمی دھماکے نے سلامتی دی۔ اس لمحے نے عزت دی۔ اور بیرون ملک بسنے والے ڈیڑھ کروڑ پاکستانیوں کے لیے عزت بم سے زیادہ قیمتی ہے۔

ہاں یہ پٹرول سستا نہیں کرے گا۔ آٹے کی قیمت نہیں گھٹائے گا۔ بجلی کا بل کم نہیں ہو گا۔ آئی ایم ایف کا قرض معاف نہیں ہو گا۔ عرب ممالک ہمیں ایک دم مسکین سے رفیق نہیں بنا لیں گے. ہماری ریاست ہمارے سینے پر بیٹھی رہے گی. ملکی سیاسی مسائل میں زیادہ فرق نہیں پڑے گا. مگر کچھ چیزیں آٹے اور پٹرول سے بڑی ہوتی ہیں۔ ایک قوم کا وقار ان میں سے ایک ہے۔ ایک پوری نسل جو بیرون ملک سر جھکا کر رہی ہے اس کا سر اٹھنا ان میں سے ایک ہے۔ ایک ملک کا نام بم سے جڑے ہونے کی بجائے امن سے جڑنا ان میں سے ایک ہے۔

سرمایہ کاری کی دنیا میں ایک اصول ہے: "perception precedes reality”۔ پہلے تصور بدلتا ہے پھر حقیقت بدلتی ہے۔ پہلے لوگ آپ کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں پھر آپ کے ساتھ مختلف سلوک کرتے ہیں۔ پہلے خبریں بدلتی ہیں پھر سرمایہ آتا ہے۔ پہلے وقار ملتا ہے پھر ویزے آسان ہوتے ہیں، تجارتی معاہدے بہتر شرائط پر ہوتے ہیں، سیاحت بڑھتی ہے، طلبا کو بہتر داخلے ملتے ہیں۔

پاکستان کے رنگ ہیں۔ آوازیں ہیں۔ تاریخ ہے۔ موہنجو داڑو ہے۔ ٹیکسلا ہے۔ بادشاہی مسجد ہے۔ شالامار باغ ہے۔ ہنزہ ہے۔ سوات ہے۔ صحرائے تھر کی خاموشیاں ہیں اور کراچی کی گہماگہمی ہے۔ انیس کروڑ لوگ ہیں جن کی اوسط عمر بائیس سال ہے۔ دنیا کی سب سے نوجوان آبادیوں میں سے ایک۔ یہ ملک دم توڑتا نہیں، دم توڑنے والوں کو سانس دیتا ہے۔

مگر بیس سال بد برانڈنگ نے یہ سب چھپا دیا تھا۔ دنیا کو صرف دھواں دکھائی دیتا تھا، رنگ نہیں۔ صرف دھماکے سنائی دیتے تھے، موسیقی نہیں۔ صرف خوف محسوس ہوتا تھا، مہمان نوازی نہیں۔

آج وہ پردہ اٹھا ہے۔

آج دنیا نے پاکستان کو وہ دیکھا ہے جو پاکستان واقعی ہے: ایک ایسا ملک جو بحران کے عین وسط میں کھڑا ہو کر دونوں فریقوں سے بات کر سکتا ہے۔ جس پر دشمن بھی اعتماد کرتا ہے اور دوست بھی۔ جو قرض لے کر بھی دنیا بچا سکتا ہے۔ جو ٹوٹ کر بھی جوڑ سکتا ہے۔

آج نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ٹیلی گراف، بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ، رائٹرز، فاکس نیوز، این بی سی، سی بی ایس، اے بی سی، پی بی ایس، سی این بی سی، ٹائم، نیوزویک ان سب میں ایک لفظ چمک رہا ہے: Pakistan۔ اور اس لفظ کے آگے "bomb” نہیں لکھا ہے۔ "peace” لکھا ہے۔

یہ لمحہ اربوں ڈالر کا ہے۔ یہ لمحہ ایٹمی دھماکے جتنا بڑا ہے۔ یہ لمحہ فوجی دفاع جتنا اہم ہے۔ کیونکہ ایٹمی بم دشمن سے بچاتا ہے مگر برانڈ دوست بناتا ہے۔ اور آج پاکستان کو دوستوں کی ضرورت بم سے زیادہ ہے۔

ایک پرانی کہاوت ہے: قوموں کی عزت میدان جنگ میں بنتی ہے۔ آج ایک نئی کہاوت لکھی جا رہی ہے: قوموں کی عزت اس وقت بنتی ہے جب وہ میدان جنگ میں لڑنے کی بجائے جنگ روک دیں۔

8 اپریل 2026۔ آج کا دن یاد رکھیں۔ یہ وہ دن ہے جب برانڈ پاکستان نے کروٹ بدلی۔ اللہ کرے ہم اور بھی ایسے دن دیکھیں.

پاکستان – ہمیشہ زندہ باد!

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.