Gas Leakage Web ad 1

پاکستان کی ثالثی میں ایران،امریکہ مذاکرات: کردار، حالات اور عالمی پہلو

محمد شہباز

0

ایران امریکہ مذاکرات کی بیل منڈھے تو نہ چڑھ سکی، جس کیلئے پاکستان نے اسلام آباد میں ایک فائیو سٹار ہوٹل میں مذاکرات کی میز سجائی تھی، جہاں دونوں فریقین کے وفود نے مسلسل 21 گھنٹوں تک بات چیت کی۔ اس دوران صرف کھانے پینے اور نماز کے مختصر وقفے لیے گئے، جس سے مذاکرات کی شدت اور پاکستان کے میزبان کردار کی اہمیت واضح ہوئی۔فریقین نے سرسے سرجوڑ لیے تھے۔البتہ پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاہنوں کی مانند ان مذاکرات میں معاونت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔جس کا اعتراف مذاکرات میں شامل دونوں وفود کے علاوہ دنیا بھر کے ماہرین اور سربراہاں مملکت کررہے ہیں،ایران امریکہ مذاکرات میں بطور ثالث پاکستان کے کردار پر اگر کسی کی پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں تو وہ مودی کا بھارت اور اس کا بدنام زمانہ گودی میڈیا ہے،جس نے ایران امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان کے انتخاب پر طوفان بدتمیزی کیا لیکن ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ خود بھارت کی اپوزیشن جماعتوں، تجزیہ کاروں اور صحافیوں نے پاکستان کے کردار کو نہ صرف سراہا بلکہ بعض یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ گزشتہ برس مئی میں آپریشن سیندور میں پاکستان کے جوابی اقدام نے ایک تو بھارت کو چاروں شانے چت کیا جس کی بنیاد پر اب پوری دنیا میں پاکستان کے قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے،دوسرا جنرل سید عاصم منیر ابھر کر سامنے آچکے ہیں جن کی دفاعی صلاحیتوں کی بنیاد پر انہیں شہرہ آفاق حیثیت اور اہمیت مل چکی ہے۔
اٹھائیس فروری2026 میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے عالمی سیاست اور معیشت میں ایک نیا تلا طم اور حساس تناو پیدا کیا۔ خطے میں تناو اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے دوران پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جس نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو بڑھا دیا۔پاکستان نے مذاکرات کیلئے انتہائی محفوظ اور پیشہ ورانہ انتظامات کیے۔ مذاکرات کی سجی میز، جہاں ہر پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت کے ماحول کو غیر جانبدار بنایا گیا۔ میزبان ملک ہونے کے ناطے پاکستان نے فریقین کے درمیان اعتماد قائم کرنے کیلئے مکمل تعاون فراہم کیا۔مذاکرات کے دوران ہر مرحلے پر پاکستان نے شفافیت اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کا شاندار مظاہرہ کیا، جس نے کشیدگی کو کم کرنے اور بات چیت کو موثر بنانے میں مدد فراہم کی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دفاعی اور سکیورٹی انتظامات کی نگرانی خود کی، جس سے مذاکرات کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کی قیادت نے فوجی اور حفاظتی اقدامات کو مربوط بنانے میں مدد فراہم کی، جس سے مذاکرات کا ہر پہلو محفوظ اور پائیدار رہا۔وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے سفارتی مہارت اور مذاکراتی حکمت عملی فراہم کی، جس سے حساس موضوعات پر اعتماد قائم ہوا اور مذاکرات میں جامع پیشرفت ممکن ہو پائی۔ماہرین کے مطابق، ان دونوں رہنمائوں کے بھرپور اور مثالی کردار نے پاکستان کو عالمی سطح پر قابل احترام بنایا اور اس کے جغرافیائی و سیاسی وزن میں اضافہ کیا۔
طویل اور تھکا دینے والے مذاکرات کی یہ شدت اس بات کی دلیل تھی کہ پاکستان نے نہ صرف میزبان ملک کی حیثیت سے تاریخی کردار ادا کیا بلکہ ہر ممکن طریقے سے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں مدد کی۔اس دوران پاکستانی عملے نے غیر معمولی جذبے، لگن، محنت اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور فریقین کے درمیان تنازعات کو کم کرنے میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔پاکستان کی ثالثی پر عالمی سطح پر مثبت ردعمل سامنے آیا اور مسلسل آرہا ہے۔خود امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات میں ثالثی کے کردار پر پاکستان کی اعلی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کو آگے بڑھانے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ناقابل یقین میزبان اور سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنمائوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے میں مثالی سہولت فراہم کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور ایران جیسے ممالک کے درمیان برسوں بعد اعلی سطح پر سنجیدہ مذاکرات ممکن بنانا ایک بڑی پیشرفت ہے، جس میں پاکستان نے بطور ثالث اہم کردار ادا کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک اہم کامیابی سمجھی جا رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر اس کے کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے خطے میں متحارب فریقوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا آیا ہے اور اس نے واشنگٹن اور تہران دونوں کیساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو موثر طریقے سے استعمال اور بروئے کار لایا ہے۔ امریکی نائب صدر کی فاکس نیوز کیساتھ حالیہ گفتگو علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ایک سینئر اور بڑے امریکی عہدیدار کی جانب سے غیر معمولی اور اہم اعتراف کی عکاسی کرتے ہیں۔ان کے مطابق اسلام آباد میں مذاکرات کی کامیاب میزبانی کو پاکستان کیلئے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر اس کے سفارتی قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
مذاکرات میں شامل ایران اور امریکی وفود نے پاکستانی اقدامات کو سراہا اور ان کے تعاون کی کھل کر تعریف کی۔ متعدد عالمی ماہرین نے بھی پاکستان کی ثالثی کو خطے میں قیام امن کیلئے ایک مثبت اقدام قرار دیا۔البتہ مودی کابھارت اور اس کے گودی میڈیا نے پاکستان کے اس ابھرتے ہوئے کردار پر تنقید کی، لیکن بھارتی اپوزیشن، تجزیہ کار اور بعض صحافی بھی پاکستان کی کامیابی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ بھارتی کانگریس رہنما اور ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر بھارت سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔جبکہ سابق بھارتی فوجی آفیسر میجر جنرل یش مور نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا ہے کہ اس خطے میں قدرتی طور پر پاکستان ایک اہم دفاعی پوزیشن کا حامل ملک ہے،پاکستان کی ایران کیساتھ ساڑھے نو سو کلو میٹر طویل سرحدیں ملتی ہیں،ایسے میں پاکستان اگر فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوا،تو یہ پاکستان کی کامیابی ہے اور اس پر مخالفت کے بجائے اس اقدام کی حمایت کرنی چاہیے،کیونکہ جنگ کے نتیجے میں پوری دنیا کی معیشت بری طرح لپیٹ میں آتی ہے اور نتیجتاعام لوگ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی کئی بھارتی تجزیہ کاروں نے پاکستانی ثالثی کو سراہا ہے۔ بھارتی سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث ومباحثہ جاری ہے اور مختلف تجزیہ کار مودی حکومت کی پالیسیوں کو خطے میں بھارت کے کمزور کردار سے تشبیہ دے رہے ہیں۔بعض مبصرین موجودہ بھارتی خارجہ پالیسی کو غیر موثر قرار دے رہے ہیں اور یشوا گرو بننے کے مودی کے نظریہ کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔
اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرت عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت تصویر اجاگرنے کا باعث بنے۔اس کی بڑی اور بنیادی وجہ گذشتہ برس مئی میں آپریشن سیندور کے دوران پاکستان کے نپے تلے اور کامیاب جوابی اقدامات ہیں، جس سے بھارت کو خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مسلسل مشکلات کا سامناہے۔ جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک افواج کے دفاعی اقدامات نے پاکستان کی طاقت اور عالمی مقام کو مستحکم کیا۔اس اقدام نے نہ صرف بھارت کو سیاسی اور دفاعی طور پر گھٹنوں کے بل لاکھڑا کیا بلکہ پاکستان کی ساکھ اور دفاعی صلاحیت کا ڈنکا بھی پوری دنیا میں بج رہا ہے، جس کا اثر مذاکرات کے دوران واضح طور پر محسوس کیا گیا اور یہ نظر بھی آیا،جس کا زخم بھارت آج تک چاٹتا ہے۔
پاکستانی میڈیا نے ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے مصلحانہ کردار کو مثبت انداز میں پیش کیا۔ عوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا گیا اور اس کے سفارتی اور دفاعی اقدامات کو درست انداز میں پیش کیا گیا۔یہ صورتحال پاکستان کیلئے ایک بھرپور موقع بھی تھی کہ وہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط اور اپنے اثر و رسوخ کومزید فعال بنائیں۔بلاشبہ پاکستان کی ثالثی نے خطے میں امن قائم کرنے میں مدد فراہم کی، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو اگر ختم نہیں کیا جاسکا، کم از کم اس کی حدت کو کم ضرور کیا گیا ہے ،جس کے نتیجے میں پاکستان کے عالمی مقام میں اضافہ ہوا۔ مذاکرات میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت اور موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔پاکستان کی ثالثی اور مذاکرات میں کامیابی نے عالمی ماہرین، سربراہان مملکت اور سیاسی حلقوں کی نظر میں اس کی اہمیت کو بڑھایا، اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے ایک کلیدی کھلاڑی ہے۔اس سے قبل پاکستان نے جنگ کے دوران خود کو ایک متوازن خطوط پر استوار کرکے بطور ایک قائد کے پیش کیا۔ مملکت سعودیہ کیساتھ دفاعی معاہدے کے باوجود پاکستان اس جنگ کا حصہ نہیں بن سکا،حالانکہ امریکی بہادر کی بھرپور کوشش تھی اور ہے کہ پاکستان کو اس لاحاصل جنگ کا حصہ بنایا جائے،تاکہ مسلمان مسلمان کے مدمقابل آسکیں،البتہ پاکستانی قیادت نے عقل و شعور سے پر دانشمندی سے خود کو اس جنگ میں کودنے سے پرہیز کیا ،اس پر ہر مسلمان کی نظروں میں پاکستان کے عزت و وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ تاریخ بہادروں کو یاد کرتی ہے،بزدلوں اور مکاروں کو نہیں۔پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے،وہ بہادروں کا تاج سر پر سجائے ہے اور مودی کے پلے سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ نہیں ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.