علم کا ارتقا نو ع انسانی کے بھی ارتقا سے قبل ہوا جس سے علم کی طلب حاصل کرنے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے وہ انسانی وجود کے لیے کس قدر ناگزیر ہے
جب مالک دوجہاں نے انسان کو تخلیق کرنا تھا تو فیصلہ فرمایا تھا کہ میں انسان کو علم کی دولت سے نواز کر اشرف مخلوقات بنا کر اپنا خلیفہ بناؤں گا اور وہ میرے عطا کیے ہوے علم کی بدولت فرائض منصبی ادا کرے گا.یہ تمام جہانوں کے رب، رب العالمین کا وہ نصب العین اور علمی نظام ہے جو اس نے اپنے خلیفہ کے لیے پسند فرمایا اور بحیثیت خلیفہ اپنے رب کے قانون کی پاسداری ہمارا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے لہٰذا ہم اس قانون سے روگردانی نہیں کر سکتے۔
انسان کے لیے معیار تعلیم وہ پسند کیا گیا جو اس کی دینی اور دنیاوی ضروریات کو پورا کر سکے اور وہ علم الاشیاء اور علم الھدایہ ہیں علم اشیا سی مراد حقیقت کو سمجهنے کا علم ہے اور جاننے کا شعور اور صلاحیت ہے.اور علم الھدایہ سی مراد غلط ور درست میں فیصلے کی تمیز مراد ہے .یہی علوم انسان کو خلیفہ ہونے کا اہل بناتے ہیں.یہ دونو ں علوم کی عنایت رحمت و حکمت خداوندی ہے.یں دونو ں کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے.ور علم کا اصل منبع اور مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے
علم حاصل کرنا مرد و عورت دونو ں کا فریضہ ہے کیوں ماں اگر پڑھی لکھی ہو گی تو علم نسلوں میں پھیلے گا .کیونکہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہی ہوتی ہے لہٰذا اس کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے
دراصل علم صرف ذہنی ریاضت کا نام نہیں بلکہ علم و حکمت کا مرکز بھی ہے نہ صرف اسے حاصل کرنا ضروری ہے بلکہ اقرار و ابلاغ بھی ضروری ہے اور علم کا لازمی حصہ ہے
مولانا مودودی (ر ح) فرماتے ہیں
“جوتعلیم بندے کو اپنے رب سے نہیں ملا تی،حلال اور حرام کا تصور واضع نہیں کرتی ،وہ تعلیم نہیں جہالت ہے ”
اللہ نے جب اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کی طرف پہلی وحی عطا فرمائی تو کہا
“پڑھ(اے محمدصلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم ) اپنے پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا ،جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا .پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے .جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سیکھائیں جس کا ان کو علم نہیں تھا( سوره علق)
ان آ یات سے بھی علم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پہلا حکم کا آغاز ہی اقرا سے کیا گیا . یہ آیات دراصل ان علوم کی عکاسی کرتی ہیں
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَدنیاۓ کائنات (کائنات اور جو کچھ اس میں ہے )
خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ
انسان اور حیاتیاتی دنیا
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ
قلم دراصل استعارہ ہے ٹیکنالوجی کا ‘انسان کی دنیاوی ترقی کا
اسلام ان تینوں علوم کی اقسام کو اللہ سے منسلک کرنے کی خصوصیت کی بنا پر دنیا کی ساری تہذیبوں میں ممتاز اور نمایاں مقام رکھتا ہے اور یہی اسلامی امور کا جامع تصور ہے
اسلام میں تعلیم کا تصور ایک خاص وقت کے ساتھ محدود نہیں ہوتا بلکہ انسان سازی کا اور ضروریات کے مطابق صحیح وقت پر رہنمائی کرنے کا،علم و فضل،علم و حکمت،سا ئنس و ٹیکنالوجی ،مکمل زندگی کو کور کرتا ہے .انسان کو آگے بڑھنے جستجو ،ایجاد،کچھ کر گزرنے کو آگے بڑھانے کی بات کرتا ہے .
جیساکہ علامہ اقبال فرمایا تھا
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہيں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہيں
تہی ، زندگی سے نہيں يہ فضائيں
يہاں سينکڑوں کارواں اور بھی ہيں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشياں اور بھی ہيں
اگر کھو گيا اک نشيمن تو کيا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہيں
جستجو کرنے والے ہی اپنی منزلوں کو چھوتے ہیںاور منزل پر پہنچنے والے علم کی معراج کو حاصل کرتے ہیں
تاریخ گواہ ہے کے جب تک ہم نے اسلام کے دے ہوے نظام تعلیم کو اپناے رکھا ہم نے دنیا پر حکومت کی اور جب وہ راستہ چھوڑا تو ذلیل و رسوا ہو گے
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پہ آسمان نے ہم کو دے مارا
آج ہمارا المیہ ہے کہ ہم فیصلہ ہی نہیں کر پاۓ کہ ہمارا نظام تعلیم کیسا ہونا چاہئیے ؟؟؟ہمارا معاشرہ منتشر ہو گیا ہے. ہم معاشرتی طور پر دو انتہاوں پہ پہنچ چکے ہیں .ہم ماڈرن ہونے کے چکر میں اور یورپ کی تقلید کرتے ہوے دین کو کم کرتے کرتے بلکل اس سے جان چھڑا بیٹھے اور اس طبقے کا حال ہوا کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا …
دوسری طرف ہمارے دینی اداروں کی دینی خدمات تو بہت شاندار ہیں میں خود دینی ادارے سے فارغ ا لتحصیل طالب علم ہوں اور اس بات پہ اللّه کا کروڑ بار شکر ادا کرتی ہوں کہ میری تعلق ور دوستی اپنے رب سے اس علم کی بدولت بہت گہری ہے .اس ادارے نے میری شخصیت کو نکھارا ہے.دینی خدمات بہت سے دیگر اداروں کی بھی قابل تحسین ہیں مگر ان اداروں میں اب کچھ عرصے سے تبدیلی دنیاوی نصاب کے حوالے سے لائی جا رہی ہے مگر ان اداروں میں مزید علوم و فنون کا اضافہ ہونا چاہئیے تا کہ یہ طالب علم سوسائٹی میں اپنا بہترین رول ادا کر سکیں
اور ان کی شخصیت میں توازن آ سکے.اور یہ دنیاوی چیلنجز کا مقابلہ بھی کر .اسلامببہ جو نظام زندگی سکھاتا ہے وہ متوازن ہے دینی اور دنیاوی دونو ں نظام رائج ہونے چاہیں
دوسری طرف ہمارا سرکاری نظام تعلیم ہے اس میں بھی دینی نظام اور بہترین تعلیم اور تربیت ہونی چاہئیے قرآن و سنت اور اقبال کی شاعری کو نصاب کا حصہ بنانا چاہئیے ہمارے اسلاف کی بہت شاندار تاریخ ہے جس کو نصاب میں شامل کرنا چاہئیے.تاکہ ہمارے بچے اپنی تاریخ اور اپنی بنیادوں سے جڑے رہیں .آ ج کا جوان ہر دوسرے کارٹون اور فلمی ہیرو سے متاثر ہو کر کتنے حادثے اسکولوں میں قتل کر کے خودکشی کی صورت میں کر چکے ہیں اور ع عام طور پر بھی بہت گھنبیر صورتحال ہے کردار سازی کی بہت ضرورت ہے .کردار سازی دینی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ہے اللّہ کی محبت اور خوف ہی تمام نیکیوں کی جڑ ہے اور آگے چلیں تو بدیسی تعلیمی سسٹم ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اس میں تو عقیدہ اور نظریہ پاکستان تک نہیں ہے اپ کے پاکستان کا نقشہ تک مکمل نہیں ہے کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہی نہیں دکھایا جا رہا ہے بہت والدین شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کے معاشرتی علوم اور اسلامیات کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے وہاں سارے غیر مسلم تہوار مناے جاتے ہیں .تو یہ بھی کسی قوم کی نوجوان نسل ملکی سالمیت اور دینی بنیادی عقائد سے بھی عاری ہو جاۓ تو اس نوجوان نسل کا کیا بنے گا.
اور اس ملک کا کیا مستقبل ہو گا
اقبال کا شاہین اور مرد مومن تو دور کی بات ہے انسانیت بھی نہیں نظر آتی نوجوانوں میں ..کیوں کہ روح کا علاج نہیں ہو رہا اور ہمارا نوجوان مایوس ور بددل ہو کر نشے کا سہارا لیتے ہیں جو کہ بہت قابل رحم حالت ہے معاشرے کی ہمیں اپنے نظام تعلیم کو بہت سنجیدگی سے درست کرنا پڑے گا ور ایک نظام تعلیم دینا پڑے گا تاکہ جو گروہ بندیاں ہمارے نظام تعلیم کی بدولت ہیں وہ ٹھیک ہو سکیں .ہمارے سارے اداروں میں کم از کم تین زبانیں لازمی سکھائی جائیں اردو،انگلش اور عربی ان میں ہمارے بچوں کو ماہر ہونا چاہئیے
ھمارے تعلیمی نظام کو سراسر دینی بنیادوں پہ استوار ہونا چاہئیے جو ہمارے بچوں کو اسی معراج پر پہنچا دے جہاں پر ہمارے رب نے معبوث فرمایا تھا.وہی ہمارا اصل مقام ہے .
اقبال نے فرمایا تھا
لا پھر اک بار وہی باد و جام اے ساقی
ہاتھ آ جاۓ مجھے میرا مقام اے ساقی
عشق کی تیغ جگر دار اڑا لی کس نے
علم کے ہاتھ میں ہے خالی نیام اے ساقی
سینہ روشن ہو تو ہے سوز و سخن آئین حیات
ہونہ روشن تو سخن مرگ دوام اے ساقی
ہاتھ آ جاۓ مجھے میرا مقام اے ساقی
مقام پہ پہنچننے کے لیے علم کی گواچی تلوار کو تلاش کر کے تیز کرنا پڑے گا اور اس سے جہالت ،لادینیت اور ہر قسم کی اخلاقی برائیوں کا قلع قمہ کر کے واپس نیام میں ڈالنا پڑے گا تو کامیابی مقدار بنے گی
پاکستان ترقی کی راہ پی گامزن ہو گا اور پاکستانی نوجوان اقبال کا شاہین اور مرد مومن بنے گا
ان شاء اللہ
