Gas Leakage Web ad 1

پاکستان کا سلامتی کونسل سے دہشتگردی کے خلاف عالمی ردعمل مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ

0

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک نئے، جامع اور دوراندیش بین الاقوامی ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے انسدادِ دہشت گردی کے نظام کو مزید مضبوط بنائے اور پابندیوں کے موجودہ نظام میں موجود خامیوں کو دور کرے۔

Gas Leakage Web ad 2

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائن الیون کے دہشت گرد حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد، جن میں سات پاکستانی بھی شامل تھے، کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور امریکی حکومت اور عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

انہوں نے نائن الیون کے بعد عالمی ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں سلامتی کونسل نے فوری اقدامات کیے، جن میں قرارداد 1373 کی منظوری بھی شامل تھی، جو آج بھی اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے فریم ورک کا اہم حصہ ہے۔

عاصم افتخار نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں، انٹیلی جنس تعاون اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی ہم آہنگی نے القاعدہ کی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ رواں صدی کے آغاز سے اب تک سکیورٹی اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت 90 ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے واقعات میں جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ ملک کو مسلسل معاشی نقصانات بھی برداشت کرنا پڑے ہیں۔

پاکستانی مندوب کے مطابق گزشتہ 25 برسوں کے دوران دہشت گردی کا منظرنامہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے اور نئے خطرات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے عالمی انسدادِ دہشت گردی کے فریم ورک میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور پابندیوں کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی میں اضافے، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے علاوہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پروپیگنڈا، ذہن سازی، بھرتی، رابطہ کاری اور مالی معاونت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی اہم چیلنج قرار دیا۔

افغانستان سے پنپنے والی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران 4,700 سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے ڈارک ویب، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ مناسب قواعد و ضوابط نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے چاروں ستونوں پر متوازن انداز میں عمل درآمد ضروری ہے۔ اس کے ساتھ دہشت گردی کے بنیادی اسباب اور ایسے حالات سے نمٹنے پر بھی توجہ دینی چاہیے جو دہشت گردی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ غیر ملکی قبضے کی صورتِ حال میں بھی احتساب کا اصول لاگو ہونا چاہیے اور قابض قوتوں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے تاکہ انہیں حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے عوام کے خلاف کارروائی کی صورت میں استثنیٰ حاصل نہ ہو۔

انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، دہشت گردی میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنائے اور اس عالمی خطرے کے خلاف متحد اور اجتماعی محاذ تشکیل دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور علاقائی ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل کو تیزی سے بدلتے ہوئے خطرات کے ساتھ قدم ملانے کے بجائے ان سے آگے رہنا ہوگا۔’

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.