امریکا کی مسلسل دوسرے روز ایران پر بمباری
امریکا نے مسلسل دوسرے روز ایران پر بمباری کی ہے، جس میں سیریک، بندرِ لنگہ اور جزیرۂ قشم کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملے کے بعد کی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ فوج نے ایران میں متعدد اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے کہا کہ ایران کو سنگاپور کے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا لیکن ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ ڈرون حملہ کر دیا، ایرانی ڈرون نے پاناما کے آئل ٹینکر کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا، جب کہ ایرانی حملے کے وقت 20 لاکھ بیرل تیل سے بھرا ٹینکر آبنائے ہرمز کے قریب تھا۔سینٹکام کے مطابق ایران کے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے جواب میں کارروائی کی گئی، جس میں ایرانی فوج کے نگرانی کے نظام، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے ڈرون اور بارودی سرنگوں کے ذخیروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے، اور امریکی افواج مکمل طور پر چوکس اور جوابی کارروائی کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ ’’فوجی کارروائی کے ذریعے کام مکمل کر دیں گے۔‘‘
انھوں نے کہا امریکی طیاروں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایران کے میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا، حملوں میں میزائل ذخیرہ گاہیں اورساحلی ریڈار سائٹس ہدف بنیں۔ امریکی صدر نے ایران کو مزید سخت فوجی کارروائی کی وارننگ دے دی اور کہا ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی مکمل کی جائے گی، اگر سبق نہ سیکھا تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔