امریکی ریپر میکلمور نے ایڈ شیرن کے شمالی امریکا کے دورے میں پرفارم کرنے سے الگ کیے جانے کے بعد اپنے پہلے کنسرٹ میں فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کیا اور دنیا کے مختلف خطوں میں جاری انسانی بحرانوں پر آواز اٹھائی۔ اس موقع پر انہوں نے امریکی امیگریشن ادارے آئی سی ای کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

سیئٹل سے تعلق رکھنے والے ریپر نے جمعرات، 22 اکتوبر کو امریکی ریاست کولوراڈو کے ریڈ راکس ایمفی تھیٹر میں 17 گانوں پر مشتمل پرفارمنس پیش کی۔ ستمبر میں انہیں ایڈ شیرن کے ’لوپ ٹور‘ میں معاون فنکار کے طور پر شامل رکھنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا، جس کے بعد یہ ان کا پہلا اسٹیج شو تھا۔
25 اور 40 ہزار روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کا طریقہ کار قومی اسمبلی میں پیش
کنسرٹ کے دوران حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے میکلمور نے کہا کہ موجودہ حالات میں انسان ہونے کا تقاضا سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ ان کے مطابق، کسی شخص کو تکلیف میں دیکھ کر اس کے حق میں آواز اٹھانا سیاست نہیں بلکہ انسانیت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے فلسطین کی آزادی کا مطالبہ دہرایا اور سوڈان، کانگو، لبنان اور ہیٹی کے عوام کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔
میکلمور نے امریکا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، یعنی آئی سی ای، سے متاثر ہونے والے افراد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر محبت کو اپنے پیغام کا بنیادی نکتہ قرار دیا۔
میوزک میگزین این ایم ای کے مطابق، میکلمور کی تقریر کے بعد حاضرین نے تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے۔ دی میری سو کی رپورٹ کے مطابق، امریکی امیگریشن ادارے آئی سی ای کا ذکر کرنے پر بھی سامعین کی جانب سے بھرپور ردعمل سامنے آیا۔
میکلمور کی یہ پرفارمنس یورپ میں ان کے ’فری فلسطین ٹور‘ سے قبل سامنے آئی ہے، جس کے متعدد شوز کے ٹکٹ پہلے ہی فروخت ہوچکے ہیں۔ ان کے بیان اور سیاسی مؤقف نے ایک بار پھر موسیقی کے فنکاروں کی جانب سے سماجی اور سیاسی معاملات پر اظہارِ خیال کے کردار کو نمایاں کیا ہے۔



