مودی سرکار کی جانب سے ایک اور تاریخی مسجد کو شہید کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، جس کے تحت نئی دہلی کی 100 سالہ قدیم ریس کورس مسجد کو 6 روز کے اندر خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریس کورس مسجد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے قریب واقع ہے، جہاں تقریباً 800 نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔
کراچی کی ڈاؤیونیورسٹی کے 27 ملازمین کی تعلیمی ڈگریاں جعلی نکلیں، تنخواہیں واپس لینے کا حکم
رپورٹس کے مطابق ریس کورس مسجد 1977 سے سرکاری گزٹ میں وقف جائیداد کے طور پر درج ہے اور اسے تاریخی ورثے میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ مسجد نئی دہلی میونسپل کونسل کی تاریخی ورثے سے متعلق فہرست کا بھی حصہ ہے۔
مسجد کے امام مولانا ہارون کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے آئندہ ہفتے مسجد کو شہید کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کردی گئی ہے، جبکہ تمام دروازے بھی بند کردیے گئے ہیں، جس کے باعث نمازیوں کو نماز کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اپنے بیان میں مسجد کے مستقبل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا مسلم عبادت گاہوں کے ساتھ اب یہی معمول بنتا جا رہا ہے؟ اگر قانونی طور پر تسلیم شدہ مسجد کو بھی تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا تو دوسری مساجد کے لیے کیا ضمانت باقی رہ جاتی ہے؟



