Gas Leakage Web ad 1

خاتون ٹیچر کے خلاف بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کی اپیل خارج

0

قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ خاتون ٹیچر نے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد تین سال تک یونیورسٹی میں کام کیا، تاہم تین سال کی مدت پوری ہونے کے بعد یونیورسٹی انہیں تنگ کر رہی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

یونیورسٹی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون ٹیچر کو حکومت کی جانب سے 56 لاکھ روپے کی اسکالرشپ دی گئی تھی اور انہیں تین سال تک یونیورسٹی میں خدمات انجام دینا تھیں۔ وکیل کے مطابق خاتون ٹیچر ان تین سالوں کے دوران 196 دن رخصت پر رہیں۔
بریسٹ کینسر سے اموات میں کمی کیلئے بروقت تشخیص اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے، ماہرِ نفسیات
قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت نے ریمارکس دیے کہ یونیورسٹی نے خاتون ٹیچر کی رخصت کی درخواستیں منظور کی تھیں، پھر انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامی پر خاتون کو منتخب نہیں کیا گیا اور اس کے بجائے باہر سے امیدوار بھرتی کر لیا گیا۔ سرکاری پیسہ خرچ کرکے خاتون کو پی ایچ ڈی کروائی گئی، لیکن اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامی پر باہر سے امیدوار لے آئے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ یونیورسٹی خاتون کی منظور شدہ تعطیلات کو کیسے چیلنج کر سکتی ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس افسر نے خاتون کی رخصت منظور کی، یونیورسٹی نے اس کے خلاف کیا کارروائی کی؟

واضح رہے کہ عدالت نے یونیورسٹی کی خاتون ٹیچر سیدہ لیلیٰ کے حق میں دیا گیا فیصلہ برقرار رکھا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.