وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ گورنر غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں، جبکہ گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کیا جانے والا اقدام انتہائی افسوسناک ہے۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے، گورنر کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی غلط کردار ادا کرچکی ہے۔
صدر آصف زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشان امتیاز سے نواز دیا
سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے اور کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وطیرہ رہا ہے، جبکہ گورنر کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کا ساتھ دیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کے پاس جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا ہمیشہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے اور قبائلی اضلاع کو آج تک مالی طور پر مکمل طور پر ضم نہیں کیا گیا۔



