پنجاب بھر میں آج سے 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس، ریلی، جلسے اور دھرنے پر پابندی عائد ہوگی۔
عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش، جبکہ غیر قانونی اجتماعات میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی ہوگی۔
سرکاری آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 92 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ
محکمہ داخلہ کے مطابق پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔ عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور ڈیوٹی پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے فوری نوعیت کے خطرات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جبکہ انٹیلیجنس رپورٹس میں دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات دہشتگرد حملوں کے لیے ممکنہ آسان ہدف بن سکتے ہیں، اسی لیے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔



