Gas Leakage Web ad 1

ایمان اور ہادی چٹھہ ضمانت کیس: ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج برہم، ڈی ایس پی کی سرزنش، ہتھکڑی بھی منگوالی

0

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست ضمانت کے کیس کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہتھکڑی منگوا لی۔

Gas Leakage Web ad 2

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی۔ تفتیشی افسر کی غیر حاضری پر جج برہم ہوگئے اور ڈی ایس پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا جواب دینا ضروری ہے، سعودی اتحادی افواج نے خبردار کردیا
وکیل صفائی ریاست علی نے کہا کہ وہ عدالت میں تفصیلی دلائل دینے کے لیے تیار ہیں، جس پر جج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہیں؟ عدالتی اہلکار نے بتایا کہ تفتیشی افسر شہر سے باہر ہے۔

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہاں آؤٹ آف سٹی ہیں؟ ڈی ایس پی کو بلائیں، زبانی کلامی باتیں نہیں مانی جائیں گی۔ فاضل جج نے ہتھکڑی منگوانے کے ساتھ سکیورٹی انچارج کو بھی طلب کرلیا۔

ڈی ایس پی کے عدالت میں پیش ہونے پر جج نے پوچھا کہ کیس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ ڈی ایس پی کے انگریزی میں بات کرنے پر جج ابو الحسنات ذوالقرنین برہم ہوگئے اور کہا کہ میرے ساتھ اردو میں بات کرو۔

ڈی ایس پی نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق تفتیشی افسر آؤٹ آف سٹی ہے، جس پر جج نے کہا کہ آپ ایسے کیسے آگئے، مجھے زبانی کلامی باتیں پسند نہیں۔ ڈی ایس پی نے مزید وقت دینے کی درخواست کی تو جج نے کہا کہ ریکارڈ پر کوئی چیز لائیں، آپ کو بھی اور ایس پی کو بھی 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دوں گا، شرم آنی چاہیے آپ لوگوں کو، بدمعاشی بنائی ہوئی ہے۔

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ڈی ایس پی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادھر کٹہرے میں الٹا منہ کرکے کھڑا کروں گا، مجھے ثبوت دکھائیں، یونیفارم سمیت ابھی 6 ماہ کے لیے آپ کو جیل بھیج دوں گا، پھر عدالتوں پر بات آتی ہے، ڈرامہ بنا ہوا ہے۔

ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان گیا ہوا ہے۔ ڈی ایس پی نے واٹس ایپ کاپی کا پرنٹ عدالت میں پیش کیا، جسے عدالت نے لینے سے انکار کردیا۔ جج ابو الحسنات نے واٹس ایپ کاپی واپس ڈی ایس پی کی طرف پھینک دی اور انہیں اصل کاپی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے ڈی ایس پی کو کٹہرے میں کھڑے رہنے کا حکم دیتے ہوئے سکیورٹی انچارج سے کہا کہ جب میں فیصلہ کروں گا تو آپ نے انہیں جانے نہیں دینا، گرفتار کرلینا ہے۔ گیٹ والے کو کہیں کہ ڈی ایس پی باہر نہ جائے۔ جج نے مزید کہا کہ جوڈیشل فورس ہونی چاہیے تاکہ عدالت اپنے حکم پر فوری عمل درآمد کرا سکے، یہاں تو 1898 اور 1860 کا نظام چل رہا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.