Gas Leakage Web ad 1

ایف بی آر کے صوابی وئیر ہاوس سے 25 کروڑ کے سگریٹ غائب

0

(ویب ڈیسک) : ایف بی آر کے صوابی میں قائم گودام سے 2 ہزار 828 کارٹن سگریٹ غائب ہونے کے معاملے پر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ایف آئی آر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں 21 ستمبر 2026 کو درج کی گئی، جس میں غائب ہونے والے سگریٹ کی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ تفصیلات ایف آئی آر میں درج واقعات اور الزامات پر مبنی ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

ایف آئی آر کے مطابق معاملے کا آغاز 14 فروری 2024 کو ہوا، جب ایف بی آر کے انسپکٹر کمران نے ضلع صوابی کے علاقے چھوٹا لاہور میں چھ گاڑیوں کو روکا۔ ان گاڑیوں میں کسان برانڈ سگریٹ کے 1,262 کارٹن موجود تھے۔

یہ سگریٹ تحویل میں لے کر شہباز گڑھی، مردان میں قائم ایف بی آر کے گودام منتقل کیے گئے۔ اس کے بعد 22 اپریل 2024 کو ایف بی آر کے انسپکٹر کمران اور انسپکٹر نوید نے تحویل میں لیے گئے اسٹاک میں سے 1,202 کارٹن چار ہینو ٹرکوں کے ذریعے قاسم پُلّہ، صوابی میں واقع ایف بی آر کے گودام منتقل کیے۔
صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح ان کی دونوں صدارتی مدتوں میں پہلی بار 30 فیصد سے نیچے گرگئی
ایف آئی آر کے مطابق جب یہ اسٹاک قاسم پُلّہ گودام پہنچا تو وہاں صرف 908 کارٹن موجود تھے۔ بعد ازاں 2 مئی 2024 کو دولت آباد منکئی، صوابی سے 907 کارٹن سگریٹ مبینہ طور پر برآمد کیے گئے اور انہیں بھی قاسم پُلّہ ایف بی آر گودام منتقل کردیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق بعد میں برآمد ہونے والے 907 کارٹن اور گمشدہ کارٹنوں سے متعلق اسٹاک رجسٹر میں اندراجات کیے گئے، تاہم معاملے کی انکوائری کے دوران اسٹاک کے ریکارڈ اور گوداموں کے انتظام میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی۔

تقریباً ایک سال بعد 7 مئی 2025 کو ایف بی آر کے انسپکٹر شادمین خان نے قاسم پُلّہ گودام، صوابی کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ مجموعی طور پر 2,828 کارٹن سگریٹ غائب ہیں، جن میں مذکورہ 907 کارٹن بھی شامل تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ گوداموں میں مناسب اسٹاک رجسٹر موجود نہیں تھا، سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں تھے، سگریٹ کی نقل و حرکت کا ریکارڈ موجود نہیں تھا اور ایک گودام سے دوسرے گودام میں اسٹاک منتقل کرنے کے لیے تحریری ہدایات یا باقاعدہ طریقہ کار بھی موجود نہیں تھا۔

ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ 22 اپریل 2024 کو 908 کارٹن کی کمی سامنے آنے کے باوجود معاملے کو فوری طور پر پولیس کو رپورٹ نہیں کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مزید تحقیقات کے دوران پیراماؤنٹ کمپنی کا نام بھی سامنے آیا۔ کمپنی کے منیجر اویس قریشی نے بتایا کہ پیراماؤنٹ کمپنی سے متعلق ضبط کیے گئے سگریٹ کمپنی نے ایف بی آر حکام کی ہدایات پر ڈس اون کیے تھے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ایسا مبینہ طور پر اس لیے کیا گیا تاکہ کمپنی کی مشینری ضبط نہ ہو، کیونکہ مشینری کی ضبطی سے کمپنی کو سگریٹ ضبط ہونے کے مقابلے میں زیادہ مالی نقصان ہوسکتا تھا۔

ایف آئی اے کی مزید تحقیقات میں ایف آئی آر کے مطابق پانچ ایف بی آر اہلکاروں اور پیراماؤنٹ کمپنی کے تین افراد کے کردار کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ایف آئی آر میں ایف بی آر حکام اور ملازمین کمران، انسپکٹر ایف بی آر، نوید، انسپکٹر ایف بی آر، افتاب حسین، ڈرائیور ایف بی آر، قاضی امجد، سیکیورٹی گارڈ ایف بی آر اور سجاد علی، نائب قاصد ایف بی آر کو نامزد کیا گیا ہے۔

پیراماؤنٹ کمپنی سے ساقب علی خان، ڈائریکٹر پیراماؤنٹ، فدا، ڈائریکٹر پیراماؤنٹ اور اویس قریشی، منیجر پیراماؤنٹ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ سرکاری اہلکاروں نے نجی افراد کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے اپنے قانونی فرائض انجام نہیں دیے، جس کے نتیجے میں 2,828 کارٹن سگریٹ کی مبینہ خردبرد یا نقصان، تقریباً 25 کروڑ روپے کے مالی نقصان اور دیگر بے ضابطگیاں ہوئیں۔

ایف آئی اے نے مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409، دفعہ 109 اور انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5(2)(47) کے تحت درج کیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہیں اور ایف بی آر کے دیگر افسران، ڈپٹی کمشنرز اور نجی افراد سمیت کسی بھی مزید شخص کا کردار سامنے آنے کی صورت میں اس کا تعین دورانِ تفتیش کیا جائے گا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.