کچھ سال قبل تک کینسر کو عموماً بوڑھے افراد کا مرض سمجھا جاتا تھا، یعنی عمر بڑھنے کے ساتھ اس بیماری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں جوان افراد میں اس جان لیوا مرض کا پھیلاؤ بڑھا ہے۔
اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر جوان افراد، یعنی 50 سال سے کم عمر لوگوں میں کینسر کی مختلف اقسام تیزی سے کیوں پھیل رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی ایک تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کے باعث جوان افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اس تحقیق میں ایسے شواہد دریافت کیے گئے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ موجودہ دور کی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کی حیاتیاتی عمر زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔
خیال رہے کہ عام طور پر ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش یعنی کرانیکل ایج سے کیا جاتا ہے، تاہم طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر یعنی بائیولوجیکل ایج بھی ہوتی ہے، جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کی عکاسی کرتی ہے۔
جینز، طرز زندگی اور دیگر عوامل حیاتیاتی عمر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی، مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوان افراد کی حیاتیاتی عمر ماضی کی نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔
ماہرین ابھی بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر جوان افراد میں یہ تبدیلیاں کیوں آرہی ہیں۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے سے جوان افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے کے باعث خلیات، اعضا، میٹابولزم اور دیگر جسمانی نظاموں میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ محققین نے بتایا کہ حیاتیاتی اور اصل عمر کے درمیان فرق بڑھنے سے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے کسی حد تک وضاحت ہوتی ہے کہ جوان افراد میں کینسر کے کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ کیوں ہورہا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ عمر بڑھنے کے اثرات جسم کے ہر عضو پر یکساں انداز میں مرتب نہیں ہوتے۔ درحقیقت حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافہ ان اعضا میں زیادہ ہوتا ہے جو اکثر کینسر سے منسلک ہوتے ہیں۔
اسی ٹیم نے ماضی میں مختلف تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا تھا کہ متعدد عوامل کسی فرد میں کینسر کے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔
کسی فرد کا جسمانی وزن، میٹابولک افعال میں تنزلی، الکحل کا استعمال، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا اور نقصان دہ غذاؤں کا استعمال کینسر کی مختلف اقسام کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
اس تحقیق میں ایک لاکھ 54 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور ان کا موازنہ 10 ہزار افراد پر مشتمل ایک دوسرے گروپ کے ڈیٹا سے کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ پہلے گروپ میں شامل جوان افراد کی حیاتیاتی عمر معمر افراد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی۔
اسی طرح دوسرے گروپ میں بھی یہ فرق زیادہ نمایاں نظر آیا۔ خاص طور پر 1990 سے 1999 کے دوران پیدا ہونے والے افراد میں حیاتیاتی عمر میں اضافے کی شرح 1965 سے 1969 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کے مقابلے میں 92 فیصد زیادہ تھی۔
مزید تجزیے سے معلوم ہوا کہ حیاتیاتی عمر میں اضافے سے جوانی میں کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر پھیپھڑوں اور نظام ہاضمہ سے متعلق کینسر کی اقسام کا خطرہ زیادہ بڑھتا ہے۔
تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میڈیسن میں شائع ہوئے۔