جنیوا: ورلڈ مسلم کانگریس (WMC) کے مستقل نمائندے الطاف حسین وانی نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں نجی فوجی عناصر اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی آزادانہ اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران رپورٹ A/HRC/63/31 پر انٹرایکٹو ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے الطاف وانی نے کرائے کے جنگجوؤں کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور خبردار کیا کہ نجی فوجی و سکیورٹی کمپنیوں کی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال انسانی حقوق اور جوابدہی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔
ایران امریکی مخالفت کے باوجود بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جنرل کمیٹی کا رکن منتخب
مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نجی ملیشیا، کرائے کے جنگجو گروہوں کے استعمال اور شہریوں کے خلاف ان کی مبینہ جبری کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں میں غیر ریاستی عناصر کا استعمال سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بشمول ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں، کے لیے جوابدہی سے بچنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
الطاف وانی نے کشمیر میں جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے مبینہ استعمال کی جانب خصوصی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی، بائیومیٹرک ٹریکنگ اور ڈیجیٹل نگرانی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے شہریوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی کو ممکن بنا دیا ہے اور اسے سیاسی اختلاف رائے کو دبانے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو محض سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ شہریوں کے خلاف اس کے استعمال سے رازداری، آزادیٔ اظہار، نقل و حرکت کی آزادی اور دیگر بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے نے خبردار کیا کہ عسکریت، نجی جبری عناصر اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کا امتزاج مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے ذرائع کو مزید کنٹرول مضبوط کرنے، اختلاف رائے کو خاموش کرنے اور جوابدہی سے بچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
الطاف وانی نے انسانی حقوق کونسل اور متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نجی ملیشیا کے کردار اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں۔
انہوں نے کونسل پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ نجی اداروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ بند کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ نگرانی کی ٹیکنالوجی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے استعمال نہ ہو۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کشمیری عوام کو عسکریت، نگرانی یا دیگر جبری اقدامات کے ذریعے اپنے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کی مؤثر نگرانی کے لیے عالمی برادری کی جانب سے مزید مضبوط اقدامات کا مطالبہ کیا۔