یمن کی انصار اللہ تنظیم کے سینیئر اہلکار محمد البخیتی نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حوثیوں نے مغربی صوبے تعز میں کلیدی اہمیت کے حامل علاقوں اور فوجی اڈوں الخالد اور جبل النصر پر قبضہ کرلیا ہے اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں واقع المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک پہنچ گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے المخا ایئرپورٹ پر بھی قبضہ کرلیا ہے، جبکہ مزاحمت کرنے والے افراد نے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
واضح رہے کہ باب المندب دنیا بھر میں جہازوں کے ذریعے تیل، گیس اور غذائی اجناس کی منتقلی کے لیے اہم گزرگاہ ہے، جبکہ المخا اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سے بحیرہ احمر میں موجود جہازوں کی نگرانی کی جاسکتی ہے اور فوجی اعتبار سے بھی اس علاقے کو اہم مقام حاصل ہے۔
یمن صدارتی لیڈر شپ کونسل کے صدر رشاد علیمی نے کہا ہے کہ باب المندب کے قریب عسکری صورتحال میں تبدیلی کے اثرات سوئز کینال تک جاسکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ باب المندب کے اطراف موجودہ عسکری صورتحال عالمی تجارت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے ساحلی علاقوں کا تحفظ یمن سمیت عرب اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔