آخر وال کلاک کے 12 گھنٹوں کے ڈسپلے کا ڈیزائن کب اور کیسے اپنایا گیا؟
اگر آپ سے پوچھا جائے کہ ایک دن کتنے گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے تو یقیناً اس کا جواب 24 گھنٹے ہوگا۔
مگر جب آپ گھڑی کو دیکھتے ہیں، خاص طور پر دیوار گیر گھڑی یا وال کلاک کو، تو ہمیشہ ایک گول ڈسپلے نظر آتا ہے جس میں 12 ہندسے دائرے کی شکل میں موجود ہوتے ہیں، جبکہ دو سوئیاں منٹ اور گھنٹے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
میررضا کیس میں وزیرداخلہ سندھ نے عدالتی کمیشن سے غیرمشروف معافی مانگ لی
یہ منظر اتنا عام ہے کہ بیشتر افراد کے لیے وقت کے بارے میں کسی اور انداز میں سوچنا بھی مشکل ہے۔
مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ وال کلاک کا یہ ڈیزائن کیسے رائج ہوا اور یہ فیصلہ کیسے کیا گیا کہ 12 کا ہندسہ سب سے اوپر ہوگا، جس کے بعد دیگر اعداد دائرے میں نظر آئیں گے؟
زمانہ قدیم میں سن ڈائل استعمال کیا جاتا تھا، جس میں سورج کے مشرق سے مغرب کی جانب سفر کے مطابق وقت کا تعین کیا جاتا تھا۔
جب مکینیکل گھڑیاں تیار کی گئیں تو ابتدائی گھڑیوں میں بھی سن ڈائل کے وقت بتانے کے نظام کو ہی استعمال کیا گیا، یعنی انہیں سن ڈائل والی سمت میں چلنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
سوئیوں کی گھڑی وار یا کلاک وائز حرکت بھی اسی نظام سے متاثر ہے، یعنی سورج کی روشنی سے کام کرنے والے سن ڈائل کا طریقہ ہی اس کے پیچھے موجود ہے۔
جہاں تک 12 نمبروں کے ساتھ نظر آنے والے کلاک ڈسپلے کا تعلق ہے تو یہ 14ویں صدی میں معیاری شکل اختیار کرگیا تھا۔
اس کے بعد سے اس کی بنیادی شکل میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔
جہاں تک 12 ڈویژنز کی بات ہے تو یہ قدیم بابلی تہذیب کے اثر کا نتیجہ ہے۔
اس تہذیب میں sexagesimal نظام کے لیے 60 کے ہندسے کو اپنایا گیا تھا۔
صدیوں بعد قدیم یونان میں اس تصور کو اپنایا گیا اور اسے وقت کے بجائے دائرے کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ 12 گھنٹے کے ٹائم کیپنگ سسٹم کو بھی اپنایا گیا۔
Hipparchus نے اس تقسیم کو 360 ڈگری کے لیے استعمال کیا اور 150 عیسوی میں Ptolemy نے ہر ڈگری کو 60 چھوٹے حصوں میں تقسیم کردیا، جن کے لیے partae minutae primae کی اصطلاح استعمال ہوئی اور اسی سے انگریزی لفظ منٹ بھی نکلا ہے۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ آخر 12 کا ہندسہ سب سے اوپر کیوں ہوتا ہے تو اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ 12 بجے کا وقت وہ تھا جب دوپہر کے وقت سن ڈائل میں سایہ سب سے مختصر ہوتا تھا، چنانچہ ابتدائی گھڑیوں میں اسی تصور کو کسی تبدیلی کے بغیر اپنا لیا گیا اور تب سے یہ سلسلہ جاری ہے۔