Gas Leakage Web ad 1

حکومت نے عمران خان سے متعلق غیر ملکی میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا

0

حکومت نے عمران خان سے متعلق بعض غیر ملکی میڈیا میں نشر ہونے والی رپورٹس کو گمراہ کن اور منظم منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق عمران خان کسی انتظامی حراست میں نہیں بلکہ مجاز عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں قید ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستانی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق عمران خان کو قید تنہائی، تشدد یا بنیادی سہولیات سے محرومی کا سامنا نہیں۔ جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی انتظامات کے تحت انہیں ملاقات، ٹیلی فون، مطالعے کے مواد اور ٹیلی ویژن کی سہولت حاصل ہے۔ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا، ورزش کا سامان اور مناسب غذائی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

حکومت کے مطابق عمران خان کے لیے سات سیلز پر مشتمل ایک علیحدہ کمپاؤنڈ مختص ہے، جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں۔ انہیں الگ سے تیار کیا گیا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس میں گوشت، چکن، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور بوتل کا پانی شامل ہے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کیے جانے کا دعویٰ بھی درست نہیں۔ جیل میں قیام کے دوران تقریباً 198 ملاقاتوں کے سیشنز ریکارڈ کیے گئے، جن میں 900 سے زائد افراد نے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں ان کی بہنیں، اہل خانہ، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی نمائندگان اور دیگر منظور شدہ افراد شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ کو بھی ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ تازہ ترین ملاقات 4 اگست 2026 کو ہوئی۔ اس کے علاوہ 18، 19 اور 25 اگست کو ان کی بہنوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان اور بیرون ملک موجود اہل خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی رابطہ کرایا جاتا رہا ہے۔ 21 مارچ 2026 کو عمران خان کی اپنے ایک بیٹے سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کرائی گئی۔

حکومت نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ عمران خان کو فراہم کی جانے والی سہولیات جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی انتظامات کے مطابق ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.