Gas Leakage Web ad 1

صدر آصف زرداری نے ججز تعیناتی کی سمری ٹھوس بنیاد پر روکی ہوئی ہے : نیئر بخاری

0

مشیر وزیراعظم اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سما ٹی وی کے پروگرام ’’میرے سوال‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک فیصد لوگوں کی وجہ سے ایکشن کمیٹی کالعدم رہے گی۔ ان کے مطابق تشدد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کی وجہ سے کمیٹی کالعدم رہے گی، جبکہ متعلقہ افراد کو فورتھ شیڈول اور درج مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

Gas Leakage Web ad 2

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قتل اور تشدد میں ملوث افراد کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مظاہروں کے پیچھے موجود لابی کے بارے میں بھی معلومات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حویلی میں جلسہ ہوا جہاں کشمیریوں نے نعرے لگائے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔
محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے بعض ارکان نے ان کی جماعت کے ارکان کے ساتھ انڈر اسٹینڈنگ کی تھی۔ فاروق ایچ نائیک جوڈیشل کمیشن میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے ججز کی تعیناتی کے لیے نام دیے گئے، تاہم تعیناتی نہیں کی گئی۔ بیرسٹر قمر سبزواری کا نام ٹاپ لسٹ میں تھا۔

نیئر بخاری نے کہا کہ ججز کی تعیناتی کے لیے جو سمری بھیجی گئی، اس میں ایک جج پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ سمری میں پشاور کے چار اور سندھ کے دو ججز کے نام شامل ہیں، جبکہ صدر نے ججز کی تعیناتی کی سمری روک رکھی ہے اور اس کی ٹھوس بنیاد موجود ہے۔

انہوں نے ایک معروف مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایڈیشنل سیشن جج نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے 10 کروڑ روپے لیے، جن میں سے 50 لاکھ روپے انہیں ملے۔ ان کے مطابق مذکورہ ایڈیشنل سیشن جج کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔ نیئر بخاری نے کہا کہ یہ بول ٹی وی والوں کا کیس تھا اور اس جج نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 50 لاکھ روپے دیے گئے، جبکہ باقی رقم کے حوالے سے وکیل اور جج کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ ان کے مطابق یہ باتیں بار میں بھی زیر بحث ہیں اور مذکورہ جج کا نام بھی ججز کی تعیناتی کی سمری میں شامل کیا گیا ہے۔

نیئر بخاری نے کہا کہ پشاور سے ایک شخص نان ٹیکس پئیر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام اس لیے نہیں چل رہا کیونکہ آئین پر عمل نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی مضبوط تھی اور اسے بہت زیادہ حمایت حاصل تھی، تاہم انتخابی نتائج سے تکلیف ہوئی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں ہی اپنی شکایات کا اظہار کردیا تھا۔

نیئر بخاری نے دعویٰ کیا کہ کوٹلی کی چار نشستیں پیپلز پارٹی سے چھینی گئیں۔ ان کے مطابق چاروں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) نے ایک جبکہ بلاول بھٹو نے ایک کمیٹی بنائی، اور پیپلز پارٹی کی کمیٹی کی قیادت وہ خود کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے تین اجلاس ہوئے۔ ایل اے 12 کے 40 پولنگ اسٹیشنز پر ٹرن آؤٹ 80 فیصد سے زیادہ تھا اور پیپلز پارٹی نے دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق فیصلہ ہوا تھا کہ جن پولنگ اسٹیشنز پر ٹرن آؤٹ 80 فیصد سے زیادہ ہوگا، وہاں دوبارہ پولنگ کرائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے منظوری لے کر آگاہ کریں گے۔ نیئر بخاری کے مطابق وہ شام 6 بجے تک انتظار کرتے رہے، تاہم رانا ثناء اللہ اور امیر مقام مظفرآباد چھوڑ کر اسلام آباد آگئے، جبکہ وہ اور قمر زمان کائرہ رانا ثناء اللہ اور امیر مقام کا انتظار کرتے رہے۔

نیئر بخاری نے کہا کہ وہ میرپور ڈویژن کے دوسرے مرحلے کے انتخابات سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایل اے 27 اور 28 کے انتخابات ملتوی کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایل اے 27 کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی خاتون امیدوار تیسرے نمبر پر تھیں اور وہاں پیپلز پارٹی کا مقابلہ آئی پی پی سے تھا، تاہم انہیں 200، 200 ووٹوں پر کامیاب کرا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل اے 31 سے لطیف اکبر کو کامیاب قرار دیا گیا، جبکہ ایل اے 28 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار نے نتائج تبدیل کیے جانے کی شکایت کی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.