Gas Leakage Web ad 1

پاک کوریا ہاکی سیریز — نئی امید، نیا سفر , کیا پھر سے قومی کھیل ہاکی کا روشن مستقبل جگمگائے گا؟

حرف محتاط / ملک خالدضمیر

0

بعض خبریں صرف ایک اطلاع نہیں ہوتیں، بلکہ ایک پوری قوم کی یادوں، امنگوں اور خوابوں کو جگا دیتی ہیں۔ جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم کا تقریباً 20 برس بعد پاکستان کا دورہ بھی ایسی ہی ایک خوش آئند خبر ہے، جو دل میں یہ امید روشن کرتی ہے کہ شاید پاکستان ہاکی کے سنہرے باب کا نیا آغاز ہونے جا رہا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

چار بین الاقوامی میچوں کی اس سیریز کے لیے 24 کھلاڑیوں اور آفیشلز پر مشتمل جنوبی کورین وفد پاکستان پہنچ چکا ہے، جہاں پاکستان اسپورٹس بورڈ اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (IPC) کے عہدیداروں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان چار میچوں کے علاوہ مشترکہ تربیتی کیمپ بھی منعقد ہوگا، جو نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بین الاقوامی معیار سیکھنے اور تجربات کے تبادلے کا ایک قیمتی موقع ہوگا۔

تمام میچز نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم، اسلام آباد میں 30 جولائی، یکم اگست، 4 اگست اور 7 اگست کو کھیلے جائیں گے، جبکہ پوری سیریز پی ٹی وی اسپورٹس پر براہِ راست نشر کی جائے گی۔ امید ہے کہ ایک زمانے کی طرح ایک بار پھر گھروں میں ہاکی کی گونج سنائی دے گی اور نئی نسل اپنے قومی کھیل سے ایک نئے رشتے میں بندھے گی۔

پاکستان ہاکی کی تاریخ دنیا کے کھیلوں کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ پاکستان چار مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیتنے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ اولمپکس، ایشین گیمز، ایشیا کپ اور چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی فتوحات آج بھی تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے لکھی ہوئی ہیں۔ یہ وہ سرمایہ ہے جس پر ہر پاکستانی بجا طور پر فخر کرتا ہے۔

وہ بھی ایک دور تھا جب سمیع اللہ کی برق رفتار دوڑ، کلیم اللہ کی فنی مہارت، حسن سردار کا جارحانہ کھیل، منظور جونیئر کی قائدانہ صلاحیت اور اولمپین خالد بشیر کی شاندار کارکردگی پورے ملک کی گفتگو کا محور ہوتی تھی۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ہاکی میچ شروع ہوتے ہی گلیاں سنسان اور بازار ویران ہو جاتے تھے۔ ہر گول پر خوشیوں کے نعرے بلند ہوتے، بچے ہاتھوں میں ہاکی اسٹک اٹھا لیتے اور سبز ہلالی پرچم ہر دل کی دھڑکن بن جاتا۔ ہاکی صرف ایک کھیل نہیں تھی، بلکہ قومی یکجہتی، فخر اور خوشی کی مشترکہ زبان تھی۔

وقت نے منظر ضرور بدلا، لیکن خواب ابھی زندہ ہیں۔ آج بھی جب ہاکی کا ذکر آتا ہے تو دل یہی سوال کرتا ہے کہ وہ ولولہ کہاں گیا؟ وہ جذبہ کہاں کھو گیا؟ وہ مسکراہٹیں، وہ اجتماعی خوشیاں اور وہ قومی افتخار کہاں بکھر گیا جو ایک زمانے میں کھیلوں کے میدانوں سے جنم لیتا تھا؟

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ موجودہ قومی ٹیم، اس کے انتخاب اور حالیہ کارکردگی کے حوالے سے مختلف حلقوں میں سوالات اور تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حالیہ تبدیلیوں نے بھی بحث کو جنم دیا ہے۔ لیکن اگر ہم صرف اختلافات کی گرد اڑاتے رہیں اور قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیں تو نقصان صرف ہاکی کا نہیں، پاکستان کا ہوگا۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر وہ تعمیری ہو؛ اختلاف ضرور ہو، مگر قومی مفاد پر سب متفق ہوں۔

خوش آئند امر یہ ہے کہ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری محی الدین احمد وانی کی ذاتی دلچسپی سے ہاکی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہاکی اکیڈمیوں کے قیام، اسکولوں میں قومی کھیل کی واپسی، نوجوان ٹیلنٹ کی تلاش اور بین الاقوامی ٹیموں کو پاکستان لانے کی کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ قومی کھیل کو دوبارہ زندگی دینے کا عزم موجود ہے۔ یہ سفر آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔

کھیل صرف تمغے جیتنے کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ قوموں کے کردار، اتحاد اور مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں۔ جب میدان آباد ہوتے ہیں تو نوجوانوں کے خواب بھی آباد ہوتے ہیں۔ جب اسٹیڈیم تالیوں سے گونجتے ہیں تو معاشروں میں امید جنم لیتی ہے۔ کھیل نفرتوں کو مکالمے میں، مایوسی کو امید میں اور بکھری ہوئی صلاحیتوں کو قومی طاقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاک کوریا ہاکی سیریز صرف چار میچوں کا سلسلہ نہیں، بلکہ یہ ایک نئے سفر کی دستک ہے۔ اگر ہم ذاتی اختلافات، گروہی مفادات اور وقتی مایوسیوں سے بلند ہو کر اپنے قومی کھیل کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو بعید نہیں کہ ایک بار پھر ہاکی اسٹیڈیم آباد ہوں، بچوں کے ہاتھوں میں ہاکی اسٹک نظر آئے، اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم عالمی میدانوں میں اسی شان سے لہراتا دکھائی دے جس کا خواب آج بھی ہر محبِ وطن پاکستانی کی آنکھوں میں زندہ ہے۔

آئیے، اس سیریز کو صرف ایک کھیل نہ سمجھیں بلکہ قومی اعتماد، نوجوانوں کی امید، خوشیوں کی واپسی اور پاکستان ہاکی کے احیاء کی ایک نئی شروعات بنائیں، کیونکہ جب قوم اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو میدان صرف مقابلوں کے نہیں رہتے، وہ تاریخ لکھنے لگتے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.