بالی وڈ اداکار عامر خان نے حالیہ دنوں موصول ہونے والی جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد اپنی تیسری اہلیہ گوری اسپرٹ کے مذہب سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہندو نہیں بلکہ عیسائی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مہاراشٹرا کے وزیر نتیش رانے نے عامر خان کی شادیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں "لو جہاد کا برانڈ ایمبیسیڈر” قرار دیا تھا، جبکہ ایودھیا سے تعلق رکھنے والے ہندو مذہبی رہنما جگد گرو پرمہنس آچاریہ نے بھی اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے عامر خان پر سنگین الزامات عائد کیے اور انہیں قتل کرنے والے شخص کے لیے 5 کروڑ روپے انعام اور قانونی معاونت کا اعلان کیا۔
ان دھمکیوں کے بعد ایک حالیہ انٹرویو میں عامر خان نے کہا کہ ان کی پہلی اہلیہ رینا دتہ، دوسری اہلیہ کرن راؤ اور موجودہ اہلیہ گوری اسپرٹ میں سے کسی نے بھی شادی کے بعد مذہب تبدیل نہیں کیا، کیونکہ ان کی تمام شادیاں سول میرج کے تحت ہوئیں۔
عامر خان کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان مختلف مذاہب کے افراد کو قبول کرنے والا خاندان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی دونوں بہنوں کی شادیاں ہندو مردوں سے ہوئیں، ان کے کزن منصور نے ایک عیسائی خاتون سے شادی کی جبکہ ان کی بیٹی نے بھی ایک ہندو شخص سے شادی کی ہے۔
واضح رہے کہ عامر خان نے رینا دتہ سے 1986 میں، کرن راؤ سے 2005 میں اور بعد ازاں گوری اسپرٹ سے شادی کی، جبکہ رینا دتہ اور کرن راؤ سے ان کی شادیاں بالترتیب 2002 اور 2021 میں ختم ہوگئیں۔