اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوج، ایف سی اور پولیس نے مشترکہ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ حالیہ دہشت گردی کا بلوچستان کے سیاسی یا مقامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں کا سیاسی مطالبات سے کوئی تعلق نہیں، مانگی ڈیم کی حفاظت پر مامور پولیس چوکی پر حملہ علاقے کو اندھیرے میں دھکیلنے اور آبی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھی۔
سینیٹ کمیٹی نے سابق اراکین پارلیمنٹ، اہلیہ اور بچوں کو مفت بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور کرلیا
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف دہشت گردی یا امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ ہے، جس میں افغانستان کو پراکسی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف شواہد عالمی فورمز پر پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اس کمیٹی کا مقصد عام انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالنا ہے، جبکہ بروقت انتخابات آئین اور قانون کا تقاضا ہیں۔
واضح رہے کہ مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا "آپریشن شعبان” جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 17 خارجی دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 91 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔