Gas Leakage Web ad 1

لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب میں تفتیش کا شکار تمام مقدمات کے اڈٹ کا حکم

0

(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک) : آپ کے فراہم کردہ خبر کا مکمل ری رائٹ حاضر ہے، اصل مفہوم، تمام اہم معلومات اور طوالت برقرار رکھی گئی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

لاہور ہائیکورٹ نے 2018 کے قتل کے ایک مقدمے میں 2025 میں گرفتار ہونے والے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پولیس کی غفلت یا سستی کا بوجھ کسی ملزم پر نہیں ڈالا جا سکتا، جبکہ بلاجواز تاخیر منصفانہ ٹرائل اور بنیادی آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

جسٹس محمد طارق ندیم کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے میں تقریباً سات سال تک نہ تو مؤثر انداز میں تفتیش کی گئی، نہ ہی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور نہ اسے اشتہاری قرار دینے کے لیے قانون کے مطابق ضروری کارروائی مکمل کی گئی۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ قانون کے تحت پولیس تفتیش 14 روز کے اندر مکمل کرنے کی پابند ہے، تاہم اس مقدمے میں چھ سال سے بھی زائد عرصے تک کیس ڈائری باقاعدگی سے تحریر نہیں کی گئی، جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

روس نے پاکستانی آلو کی درآمد پر عائد پابندی جزوی طور پر ختم کر دی

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ پولیس نے مقدمے کے کراس ورژن کی غیر جانبدار اور مؤثر تفتیش نہیں کی، جبکہ یکطرفہ تحقیقات قانون اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہیں۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ تفتیشی افسر کی بنیادی ذمہ داری اصل حقائق تک پہنچنا اور حقیقی ملزم کی نشاندہی کرنا ہے، نہ کہ صرف ایک فریق کے مؤقف کی بنیاد پر کارروائی کرنا۔

لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے میں ضلعی پولیس کا نگرانی کا پورا نظام ناکام ثابت ہوا، جبکہ چھ سال تک کیس فائل پر مؤثر پیش رفت نہ ہونا انتظامی غفلت اور نااہلی کی واضح مثال ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ جب تفتیش مکمل ہو جائے تو کسی بھی ملزم کو مزید جیل میں رکھنا قانونی طور پر درست نہیں، کیونکہ ٹرائل سے قبل غیر ضروری طور پر قید رکھنا قبل از وقت سزا دینے کے مترادف ہے۔

ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے اس کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے فیصلے کی نقل انسپکٹر جنرل پنجاب کو ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ اسے صوبے بھر کے تمام آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور ہیڈز آف انویسٹی گیشن تک پہنچایا جائے تاکہ تاخیر کا شکار مقدمات کا جامع آڈٹ کیا جا سکے اور اس نوعیت کی غفلت کی وجوہات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

عدالت نے آئی جی پنجاب کو یہ بھی ہدایت کی کہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مکمل رپورٹ 30 روز کے اندر لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی جائے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.