Gas Leakage Web ad 1

وزیر خزانہ کا سرکاری اداروں کے بورڈز میں شفاف حکمرانی یقینی بنانے پر زور

0

(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک) : کیا حکومت سرکاری اداروں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے جا رہی ہے؟ کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں کے ایک اہم اجلاس میں ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جو کئی سرکاری اداروں کے نظام پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں اجلاس میں کیا کچھ طے پایا۔

Gas Leakage Web ad 2

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ، یعنی پی پی ایل، اور سینڈک میٹلز کے بورڈز سے متعلق معاملات کا قانون کے مطابق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کیلئے مسلسل خطرہ ہیں: اسحاق ڈار

اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ آئندہ ہر سرکاری ادارے کے بورڈ میں متعلقہ وزارت کا صرف ایک نمائندہ شامل ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد بورڈز کی ساخت کو زیادہ مؤثر اور قانون کے مطابق بنانا بتایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب توانائی کے شعبے کو انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز، یعنی آئی ایف آر ایس، سے استثنا دینے کی تجویز پر فوری فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے اس تجویز کو مؤخر کرتے ہوئے ہدایت دی کہ نظرثانی کے بعد اسے دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔

اجلاس میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، پی این ایس سی، کے بورڈ میں ایک آزاد ڈائریکٹر کی تقرری کی بھی منظوری دے دی گئی۔

کابینہ کمیٹی نے ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، یعنی سمیڈا، کو سرکاری تجارتی اداروں کی فہرست سے خارج کرنے کی منظوری دی۔ تاہم واضح کیا گیا کہ سمیڈا کی غیر تجارتی اور قانونی حیثیت بدستور برقرار رہے گی۔

اس اہم اجلاس میں وفاقی وزرا، مختلف وزارتوں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی، جہاں سرکاری اداروں کی گورننس اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.