Gas Leakage Web ad 1

کیا ذیابیطس کے مریض آم کھا سکتے ہیں؟

0

(سپیشل کراسپنڈنٹ) موسم گرما آتے ہی بازاروں میں آموں کی بہار آ جاتی ہے اور یہ مزیدار پھل اکثر لوگوں کی پسندیدہ غذا بن جاتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے مریضوں میں یہ سوال عام ہوتا ہے کہ کیا آم کھانا ان کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریض آم کھا سکتے ہیں، لیکن اعتدال کے ساتھ۔ آم میں قدرتی مٹھاس اور کاربوہائیڈریٹس موجود ہوتے ہیں جو جسم میں شکر میں تبدیل ہو کر بلڈ گلوکوز کی سطح کو متاثر کرتے ہیں، اسی لیے اس کی مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

بین سٹوکس ریٹائرمنٹ ویڈیو پر آئی سی سی نے وضاحت مانگ لی

غذاؤں کے بلڈ شوگر پر اثرات جانچنے کے لیے گلائسیمک انڈیکس (GI) استعمال کیا جاتا ہے، جس میں 55 سے کم اسکور والی غذاؤں کو نسبتاً بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ آم کا گلائسیمک انڈیکس تقریباً 51 ہے، اس لیے اسے مناسب مقدار میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آم میں موجود فائبر شکر کے جذب ہونے کی رفتار کو سست کرتا ہے، جس سے بلڈ شوگر کی سطح میں اچانک اضافہ نہیں ہوتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض ایک وقت میں زیادہ مقدار میں آم کھانے سے گریز کریں۔ بہتر یہ ہے کہ روزانہ دو سلائس سے زیادہ نہ کھائیں اور اس کے بعد اپنی بلڈ شوگر کی سطح چیک کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ جسم اس پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ آم کا جوس پینے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ اس میں شکر کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح جس دن آم کھایا جائے، اس دن زیادہ شکر والی دیگر غذاؤں سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ آم کھانے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا بھی مفید ہے۔

تحقیقی رپورٹس بھی اس حوالے سے دلچسپ نتائج سامنے لائی ہیں۔ امریکا کی جارج میسن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد جنہیں ذیابیطس کا خطرہ ہو مگر وہ ابھی اس بیماری میں مبتلا نہ ہوں، ان میں روزانہ آم کھانے سے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی، انسولین کی حساسیت میں اضافہ ہوا اور جسمانی چربی میں کمی دیکھی گئی۔

اس تحقیق میں شرکا کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو روزانہ آم کھلائے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو کم چینی والی گرینولا بار دی گئی۔ چھ ماہ بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ آم استعمال کرنے والے افراد میں بلڈ گلوکوز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت زیادہ بہتر رہی۔

جون 2025 میں جرنل آف دی امریکن نیوٹریشن ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 330 گرام آم کھانے والی درمیانی عمر کی خواتین میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی آئی، جس سے دل کی صحت بہتر ہوئی۔ تحقیق کے مطابق آم کھانے سے بلڈ شوگر میں بھی اچانک اور غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا۔

اس تحقیق میں 50 سے 70 سال کی عمر کی 24 زائد وزن یا موٹاپے کا شکار خواتین کو شامل کیا گیا تھا، جنہیں دو ہفتوں تک روزانہ ڈیڑھ کپ آم کھلائے گئے۔ محققین نے بتایا کہ آم فائبر، اینٹی آکسیڈنٹس اور ایسے بائیو ایکٹو اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں جو دل کی صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔ نتائج کے مطابق آم کھانے کے دو گھنٹے بعد خواتین کے بلڈ پریشر میں نمایاں کمی اور شریانوں پر دباؤ میں بھی کمی دیکھی گئی۔

نوٹ: یہ معلومات طبی تحقیقی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ ذیابیطس یا کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں اپنی غذا میں تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.