Gas Leakage Web ad 1

خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر نجی کمپنی کے 5 عہدیداروں پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد

0

اسلام آباد:(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک) اسلام آباد: وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی نے خاتون ملازمہ کو ہراساں کرنے اور انتقامی رویہ اختیار کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر ایک نجی کمپنی کے پانچ عہدے داروں پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

Gas Leakage Web ad 2

وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کام کی جگہ پر ہراسگی اور انتقامی کارروائی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی اور ایسے اقدامات کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

شکایت گزار خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی کے مختلف عہدے داروں نے اس کے ساتھ غیر مناسب رویہ اپنایا۔ ایک ملزم نے میٹنگ کے دوران ذاتی نوعیت کے اور غیر پیشہ ورانہ جملے کہے، دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دی اور پروڈکٹ سیمپل دکھانے کے بہانے اس کا ہاتھ پکڑا۔

خاتون کے مطابق دوسرے ملزم نے اس کے نجی پیغامات کی تصاویر بنائیں اور ٹیم کے سامنے توہین آمیز جملے کہے۔ تیسرے ملزم نے شکایت کو آگے بڑھانے سے روکا اور سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ نہ کیا، حالانکہ وہ خود فوٹیج دیکھ چکا تھا۔

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور اہلخانہ کی تدفین آج مشہد میں کی جائیگی

شکایت میں مزید کہا گیا کہ چوتھے ملزم نے انتقامی کارروائی کی ہدایت دی اور ادارے میں قانون کے مطابق انسدادِ ہراسگی کمیٹی قائم نہیں کی، جبکہ پانچویں ملزم نے قانونی نوٹس موصول ہونے کے بعد شکایت گزار کو دھمکی آمیز فون کال کی۔

شکایت گزار نے بتایا کہ مسلسل دباؤ، ہراسانی اور دشمنی کے ماحول کے باعث اسے ملازمت چھوڑنا پڑی، جس کے بعد اس کے کاغذات اور واجبات بھی روک لیے گئے۔

دورانِ سماعت ملزمان نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے خاتون کی شخصیت، لباس اور نجی زندگی کو موضوع بنایا، تاہم وفاقی محتسب نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ شکایت گزار کی شخصیت، لباس یا سماجی طرزِ زندگی اس مقدمے کا حصہ نہیں۔

وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دستیاب شواہد، گواہوں کے بیانات اور ملزمان کے مؤقف میں تضاد سے ہراسگی اور انتقامی کارروائی ثابت ہوتی ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ خوش اخلاقی کو رضامندی قرار نہیں دیا جا سکتا اور شکایت درج کرانے میں تاخیر سے مقدمہ کمزور نہیں ہوتا۔

وفاقی محتسب نے کہا کہ خواتین کو کام کی جگہ پر محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرنا ہر آجر کی ذمہ داری ہے، جبکہ ہراسگی یا انتقامی رویہ قانون کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔

فیصلے کے تحت نجی کمپنی کے پانچوں عہدے داروں پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ متعلقہ ادارے کو ہدایت کی گئی ہے کہ 30 روز کے اندر انسدادِ ہراسگی کمیٹی کو ازسرِنو تشکیل دیا جائے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.